واشنگٹن – جرمن اخبار فرانکفرٹر الگی مائنے زائی تونگ کے ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ چند ہفتوں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے چار بار فون پر رابطے کی کوشش کی، تاہم مودی نے کالز نہیں اٹھائیں۔
اخبار کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان تناؤ اس سال کے اوائل میں پیدا ہوا جب ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد کیے اور بھارت کو “مردہ معیشت” قرار دیا، جس سے نئی دہلی کو کافی سخت نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “اشارے ملتے ہیں کہ مودی اس بات سے ناراض محسوس ہوئے”، اور بھارتی وزیر اعظم کی کالز سے گریز کرنا ٹرمپ کے اقدامات سے ان کی کھچائی کا مظہر ہے۔
ٹرمپ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کے حوالے سے بیانات نے بھی بھارت میں خدشات بڑھائے ہیں۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک نے فروری میں ایک بڑے تجارتی معاہدے پر بات چیت کا آغاز کیا، جس کے بعد مودی کی واشنگٹن آمد ہوئی، اور دونوں فریقوں نے 2030 تک سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم کو 500 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا۔ اس معاہدے پر اس سال خزاں میں دستخط متوقع تھے، اور متعدد مذاکراتی دورے واشنگٹن اور نئی دہلی میں ہوئے۔ تاہم، 25 اگست کو چھٹے دور کی ملاقات منسوخ کر دی گئی، جو سفارتی تعلقات میں بڑھتے ہوئے اختلافات کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بھارت میں ٹرمپ کی بدلتی ہوئی شبیہہ کو واضح کرتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذاتی اور پالیسی سطح کے اختلافات کے درمیان اس اسٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے۔