اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے ہنگامی سیلابی الرٹ کے بعد پنجاب کے مختلف اضلاع سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ستلج اور راوی دریا میں پانی کی مسلسل بلند ہوتی سطح اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد اٹھایا گیا۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ دریا کے مسلسل بڑھتے ہوئے بہاؤ سے قریبی اضلاع میں بھی سیلاب کے خطرات موجود ہیں۔ ابتدائی وارننگ پر عمل کرتے ہوئے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے بڑے پیمانے پر انخلا شروع کیا اور بہاولنگر، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولپور اور وہاڑی کے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں افراد کو نکالا۔ دریا کنارے واقع سیکڑوں دیہات پہلے ہی خالی کرائے جا چکے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق ابتدائی الرٹس کے بعد تقریباً 40 ہزار افراد اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر چکے تھے۔ ایمرجنسی ریسکیو ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں اور تمام ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کے قریب نہ جائیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر ایپ کے ذریعے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیر کے روز حکام کو ہدایت دی کہ پھنسے ہوئے افراد کو فوری طور پر نکالا جائے تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریاؤں کی صورتحال بدستور نازک ہے۔ ستلج دریا کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب میں داخل ہو چکا ہے جبکہ دیگر مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ راوی دریا میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، کچھ مقامات پر درمیانہ اور کچھ پر کم درجے کا سیلاب ہے۔ اس کی معاون ندی نالیاں بشمول بسنتَر، بیئین اور ڈیک میں بھی کم سے درمیانہ درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے سندھ میں سکھر پر درمیانہ جبکہ کالا باغ، چشمہ، گڈو اور کوٹری بیراج پر کم درجے کا سیلاب ہے۔ چناب ہیڈ مرالہ پر کم درجے کے سیلاب میں داخل ہو چکا ہے، تاہم جہلم، کابل اور ناری دریاؤں میں بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ تربیلا ڈیم تقریباً بھر چکا ہے، منگلا میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ خانپور، راول اور سملی ڈیمز میں بھی پانی کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پنجاب کے لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ مساجد سے مسلسل اعلانات کے ذریعے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور ان کے مویشیوں کے لیے ریلیف کیمپ اور چارے کا انتظام بھی کر دیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ پنجاب جو ملک کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ بحران اس وقت سامنے آیا جب بھارت نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کو دو بار پانی چھوڑنے سے متعلق باضابطہ اطلاع دی۔ مدھوپور ہیڈورکس سے راوی میں پانی کا بہاؤ بڑھایا گیا ہے جبکہ ستلج میں چھوڑا گیا پانی جنوبی پنجاب کے کئی حصوں کو ڈبو چکا ہے۔ بھارتی حکام نے کسی مخصوص ڈیم کا نام نہیں لیا تاہم انہوں نے سفارتی چینل کے ذریعے الرٹ جاری کیا، جو سندھ طاس کمیشن کے ذریعے دینے کے بجائے براہِ راست فراہم کیا گیا۔
یہ پیش رفت اسلام آباد کے لیے باعثِ حیرت تھی کیونکہ بھارت نے اپریل میں یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو “معطل” کرنے کا اعلان کیا تھا، ایک حملے کے بعد جسے دہلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی سے جوڑا تھا۔ پاکستان نے الزام کو مسترد کیا ہے۔ اس فیصلے نے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا کی، یہاں تک کہ مئی میں ایک بڑا فوجی تصادم ہوا جسے امریکی ثالثی کے بعد ختم کرایا گیا۔ پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے جو خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی ریاستوں ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں مزید بارشیں دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی مون سون کے شدید سیلابوں سے جانی اور مالی نقصانات جھیل رہا ہے۔ جون کے اواخر سے اب تک 799 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 400 کا تعلق شمال مغربی علاقوں سے ہے۔ گلگت بلتستان میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جبکہ کراچی گزشتہ ہفتے جزوی طور پر ڈوب گیا تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صرف اس ماہ کے دوران 60 افراد بارشوں کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، مشرقی تین دریاؤں (ستلج، بیاس، راوی) کے پانی پر بھارت کو اور مغربی تین دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) کے پانی پر پاکستان کو حق دیتا ہے۔ معاہدے میں یکطرفہ معطلی یا خاتمے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ بھارت پانی کی فراہمی میں رخنہ ڈال کر اس کی زرعی اور آبی توانائی کی معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فی الحال پاکستان کی امدادی ٹیمیں لاکھوں متاثرہ افراد کی جان و مال کے تحفظ کے لیے دن رات سرگرم ہیں، جبکہ موسم کی پیشگوئی کے مطابق بارشیں 10 ستمبر تک جاری رہ سکتی ہیں۔