کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پیر کے روز چنیسر ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) کے چیئرمین فاران غنی، جو صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کے بھائی ہیں، کو مبینہ تشدد اور اقدامِ قتل کے مقدمے میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
فاران غنی کو اتوار کے روز ان کے ساتھیوں شکیل اور قمر احمد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے شارع فیصل پر فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کے کام کی نگرانی کرنے والے سرکاری ملازم پر حملہ کیا۔ سعید غنی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بھائی اور ساتھی خود عدالت میں پیش ہو کر اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔
ملزمان کو ایک روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے شکایت کنندہ کو کام کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔
بغیر وکیل کے عدالت میں پیش ہونے والے فاران غنی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھوٹے مقدمے میں پھنسائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور ٹی ایم سی چیئرمین انہوں نے صرف یہ پوچھا کہ کام کی اجازت کس بنیاد پر ہو رہا ہے کیونکہ ان کا فرض ہے کہ غیر قانونی کھدائی کو روکا جائے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس نے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے صرف 4 دن کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی اور آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی۔
یہ مقدمہ شکایت کنندہ حافظ سہیل جدون کی جانب سے درج کرایا گیا، جو ایک سرکاری ملازم ہیں اور فائبر آپٹک کے کام کی نگرانی کر رہے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق 22 اگست کو شام تقریباً 4 بج کر 47 منٹ پر فاران غنی کی قیادت میں 20 سے 25 افراد تین گاڑیوں میں موقع پر پہنچے اور اجازت نامے کے بارے میں استفسار کیا۔
شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے بتایا کہ تمام این او سی موجود ہیں تو ملزمان نے گالی گلوچ اور تشدد شروع کردیا۔ ایف آئی آر کے مطابق انہیں اسلحے کے زور پر ایک قریبی پٹرول پمپ کے کمرے میں لے جایا گیا، جہاں انہیں غیر قانونی طور پر قید کر کے تشدد کیا گیا۔ اس دوران پولیس پہنچی اور انہیں بازیاب کرا کے تھانے لے گئی، جہاں مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 28 اگست مقرر کردی۔