جسٹس اطہر من اللہ کا لاپتہ افراد کیسز پر اظہارِ خیال، ریاستی عدم تعاون کو بڑی رکاوٹ قرار دیا

اسلام آباد، سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے ہفتہ کے روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک دستاویزی فلم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے مقدمات عدلیہ کے لیے سب سے مشکل معاملات ہیں کیونکہ ان میں ریاستی اداروں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے تعاون نہیں کیا جاتا۔ اس تقریب کا اہتمام ہیومن رائٹس کے گروپ ڈیفنس فار ہیومن رائٹس پاکستان نے کیا تھا۔

جسٹس من اللہ نے کہا کہ جب عدالتیں لاپتہ افراد کی بازیابی یا گمشدگی کی تحقیقات کا حکم دیتی ہیں تو حکام یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں کہ انہیں کچھ علم نہیں۔ ’’جب آزاد تفتیش کار موجود نہ ہوں تو عدالت اور جج کچھ نہیں کر سکتے‘‘، انہوں نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سپریم کورٹ جج ذاتی طور پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے اپنے دورِ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دن کمرہ عدالت میں بچے کے رونے کی آواز آئی۔ جب معاملہ پوچھا گیا تو بچہ اپنی نانی کے ساتھ سامنے آیا۔ ’’یہ مدثر نارو کا بیٹا تھا،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’اس کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا اور ریاست یہ تک نہ بتا سکی کہ نارو زندہ ہے یا مر گیا۔‘‘ جسٹس من اللہ نے کہا کہ انہوں نے آئین کے تحت حکم دیا کہ بچے اور اس کی نانی کو اس وقت کے وزیرِاعظم کے پاس لے جایا جائے کیونکہ شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری آئین کے مطابق وزیرِاعظم اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے لیے سب سے مشکل وقت وہ ہوتا ہے جب ریاست ہی تعاون نہ کرے۔ ’’آئین کہتا ہے کہ وزیرِاعظم، کابینہ اور صوبائی وزرائے اعلیٰ اس کے ذمہ دار ہیں۔ ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالی جا سکتی۔‘‘

جسٹس من اللہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دورِ چیف جسٹس میں یہ واضح پیغام دیا تھا کہ ان کے دائرہ اختیار میں ایک بھی جبری گمشدگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی قیادت جب اپوزیشن میں ہو تو مسئلے کو تسلیم کرتی ہے لیکن حکومت میں آ کر اس سے پہلو تہی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ بارہا لاپتہ افراد کے کیسز کے لیے ان کی عدالت آئے۔ ’’اگرچہ یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں آتے تھے مگر میں نے آئینی ذمہ داری کے تحت انہیں سنا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی خواتین کا اپنے پیاروں کے لیے سڑکوں پر مارچ کرنا ریاست اور معاشرے سب کے لیے باعثِ شرم ہے۔

جسٹس من اللہ نے کہا: ’’جو لوگ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہیں وہ گزشتہ 77 برسوں سے سچ نہیں بول رہے۔ جس دن وہ سچ بولنا شروع کریں گے حالات بدل جائیں گے۔‘‘

یاد رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں بلوچستان میں عوامی بیگانگی اور سیاسی عدم استحکام کو بڑھا رہی ہیں۔ صرف 2025 کی پہلی ششماہی میں ہی 125 نئے کیسز کمیشن آف انکوائری آن اینفورسڈ ڈس اپیئرنسز کو موصول ہوئے، جس کے بعد کل تعداد 10 ہزار 592 تک جا پہنچی۔

سپریم کورٹ نے بھی دسمبر 2024 میں واضح کیا تھا کہ جبری گمشدگیوں جیسے غیرقانونی عمل کو ختم کرنے کی واحد ذمہ داری پارلیمان پر عائد ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں