وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی نئی تقسیم کے لیے 11واں این ایف سی تشکیل

اسلام آباد – صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو 11ویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) تشکیل دے دیا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم وسائل کی نئی ایوارڈ پر سفارشات مرتب کرے گا۔

وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ چاروں صوبائی وزرائے خزانہ بھی رکن ہوں گے۔ دیگر ممبران میں سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ (پنجاب)، ماہرِ معاشیات و محقق اسد سعید (سندھ)، سابق بیوروکریٹ ڈاکٹر مشرف رسول سیاں (خیبرپختونخوا) اور فرمان اللہ (بلوچستان) شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن صدر کو انٹرسٹ شیئرنگ سے متعلق سفارشات پیش کرے گا، جن میں آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3) میں درج ٹیکسز کی تقسیم شامل ہے۔ ان میں انکم ٹیکس (وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ادا ہونے والی تنخواہوں کے علاوہ)، اشیاء کی خرید و فروخت پر سیلز ٹیکس، کاٹن پر ایکسپورٹ ڈیوٹی، بعض ایکسائز ڈیوٹیز اور دیگر وہ ٹیکس شامل ہیں جو صدر کی طرف سے مقرر کیے جائیں۔

کمیشن وفاقی حکومت کی طرف سے صوبوں کو گرانٹس، وفاق اور صوبوں کے قرض لینے کے اختیارات، قومی یا بین الصوبائی منصوبوں پر اخراجات کی شراکت اور دیگر مالیاتی معاملات پر بھی سفارشات دے گا۔ صدر کی جانب سے کسی اور مالیاتی معاملے کو بھی کمیشن کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 10واں این ایف سی 21 جولائی کو ختم ہو چکا ہے جبکہ 7واں این ایف سی ایوارڈ پچھلے تقریباً 15 سال سے مؤثر ہے، حالانکہ اس کی مدت صرف پانچ سال تھی۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان نئے فارمولے پر اختلافات کے باعث اسے ہر سال توسیع دی جاتی رہی۔

آئین کی 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے حصے کو آئینی تحفظ دیا گیا ہے، جس کے مطابق کسی بھی صوبے کا حصہ آئندہ ایوارڈ میں پچھلے ایوارڈ سے کم نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں