اسلام آباد — چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے سرکاری دورہ پاکستان کے دوران جمعہ کو آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔
وانگ ای بدھ کی شب پاکستان پہنچے اور جمعرات کو اسلام آباد میں چھٹی پاک-چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شریک ہوئے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی اور پاکستان کے ساتھ مل کر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق کابل میں افغان ہم منصب سے ملاقات کے بعد وانگ ای نے کہا کہ چین اپنے ہمسایوں کے بنیادی مفادات پر ان کا ساتھ دینے اور خطے میں بیرونی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی ڈائیلاگ کو مزید مؤثر بنانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون گہرا کرنے اور سرحد پار دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی فورمز پر قریبی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وانگ ای نے پاکستان کی خودمختاری اور ترقی کے لیے چین کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا، جبکہ آرمی چیف نے چین کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو آگے بڑھانے کے عزم کو دہراتے ہوئے مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور چین کی شراکت داری تجارت، توانائی، دفاع اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں پر محیط ہے، جبکہ دونوں افواج باہمی اعتماد اور مشترکہ مشقوں، تربیت اور دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے گہرے تعلقات رکھتی ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز پر آرمی چیف نے پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی 98ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ اسلام آباد اور بیجنگ کی “پائیدار شراکت داری” خطے کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔ گزشتہ ماہ اپنے دورہ بیجنگ کے دوران جنرل منیر کو چینی قیادت نے خطے کے امن کے لیے “پاکستان آرمی کو استقامت کی علامت اور ایک اہم کردار” قرار دیا تھا۔