پاکستان، چین اور افغانستان کا انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

کابل: پاکستان، چین اور افغانستان نے بدھ کے روز دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید تیز کرنے اور سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ فیصلہ کابل میں منعقدہ چھٹے سہ فریقی وزرائے خارجہ مذاکرات میں ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے شرکت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے تجارت، ٹرانزٹ، صحت، تعلیم، ثقافت، علاقائی ترقی اور منشیات کے خلاف اقدامات میں بھی تعاون بڑھانے اور پاک۔چین اقتصادی راہداری (CPEC) کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا۔

اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار اور امیر خان متقی کی ملاقات بھی ہوئی جس میں سیاسی و اقتصادی تعلقات میں پیش رفت کا اعتراف کیا گیا اور سفارتی تعلقات کو سفیر کی سطح تک بڑھانے کا خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں فریقین نے تسلیم کیا کہ حالیہ ملاقاتوں میں کیے گئے بیشتر فیصلے عملی شکل اختیار کر چکے ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں، بالخصوص تجارت اور ٹرانزٹ کے شعبے میں۔

تاہم اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون اب بھی پیچھے ہے۔ انہوں نے پاکستان میں افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کابل پر زور دیا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی/مجید بریگیڈ سمیت تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف “ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات” کرے۔ اس پر افغان وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

سہ فریقی عمل کو 21 مئی کو بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے بعد دوبارہ فعال کیا گیا، جہاں تینوں ممالک نے اصولی طور پر سفیروں کے تبادلے اور سی پیک کی توسیع پر اتفاق کیا تھا۔ چین، جس کے خطے میں استحکام اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت روابط میں اسٹریٹجک مفادات ہیں، نے اس ملاقات کی میزبانی کی تاکہ 2023 سے رکا ہوا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔

بیجنگ اور کابل کی ملاقاتوں کے اہم نتائج میں انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں کو بڑھانا، بیرونی مداخلت کو روکنا اور سہ فریقی عمل کی باضابطہ بحالی شامل تھے۔ پاکستان نے اس مکالمے میں سہولت کاری پر چین کے کردار کو سراہا جبکہ افغانستان نے اسلام آباد اور بیجنگ کے ساتھ “باہمی احترام اور تعمیری روابط” کی ضرورت پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں