لاہور – لاہور ہائیکورٹ نے بدھ کے روز سزا یافتہ اراکین اسمبلی کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ اس کیس میں آئینی تقاضوں، قانونی طریقہ کار اور اراکین اسمبلی کے حقوق کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
جسٹس خالد اسحاق نے سماعت کی، جس میں محمد احمد چٹھہ اور محمد احمد خان بھچر کی جانب سے دائر درخواستوں پر ایڈووکیٹ شہزاد شوکت نے دلائل دیے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے رکن افضل ساہی کی نمائندگی ایڈووکیٹ ارشد نذیر مرزا نے کی۔
درخواست گزاروں کے مؤقف
ایڈووکیٹ شہزاد شوکت نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے درخواست گزاروں کو سنے بغیر فیصلہ کیا، جو آئین کے آرٹیکل 63-اے کی خلاف ورزی ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت کسی رکن کی نااہلی کا فیصلہ باضابطہ کارروائی اور سماعت کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانونی طریقہ کار کے مطابق اسپیکر اسمبلی کو نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہوتا ہے، لیکن اس کیس میں نہ تو اسپیکر کو کوئی ریفرنس موصول ہوا اور نہ ہی انہوں نے بھیجا۔ ان کے مطابق ٹرائل کورٹ کا فیصلہ 13 جولائی کو آیا جبکہ 5 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، جو طریقہ کار کے خلاف ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کسی رکن کی سزا معطل ہو جائے تو کیا وہ اسمبلی کی رکنیت برقرار رکھ سکتا ہے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی ہاں، سزا معطل ہونے کی صورت میں نااہلی کا فوری اطلاق نہیں ہوتا۔
ایڈووکیٹ ارشد نذیر مرزا نے مؤقف دیا کہ اپیل دائر کرنے کے لیے لازمی 30 دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا، اس لیے نااہلی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔
آئینی و سیاسی پس منظر
پاکستان کے آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کے تحت اراکین اسمبلی کے لیے مالی، قانونی اور اخلاقی اہلیت برقرار رکھنا لازم ہے، جبکہ مخصوص جرائم میں سزا یافتہ ہونے پر نااہلی ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین قانون کے مطابق یہ نااہلی خودکار نہیں بلکہ باضابطہ ریفرنس اور سماعت کے بعد ہی ممکن ہے۔
سیاسی ماحول میں یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں متعدد اہم سیاسی رہنماؤں کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے طویل قانونی اور سیاسی کشمکش نے جنم لیا۔ عدالت کا اس کیس میں فیصلہ مستقبل میں نااہلی کے طریقہ کار اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو حتمی حیثیت دینے یا نہ دینے کے حوالے سے دور رس اثرات ڈال سکتا ہے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو آئندہ سماعت پر اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔