اسلام آباد (وے آوٹ نیوز)ایف آئی اے نے چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) ڈاکٹر غلام محمد علی اور ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ اخلاق ملک کو گرفتار کر کے جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کر دیا۔
پیشی کے دوران ایف آئی اے نے عدالت سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے دونوں ملزمان کو 3 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین پی اے آر سی پر غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔
ڈاکٹر غلام محمد علی نے 164 منظور شدہ آسامیوں کے برعکس 332 افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا۔اس اسکینڈل میں ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ اخلاق ملک بھی ملوث پائے گئے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایف آئی اے کی تفتیش میں مبینہ رشوت لینے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ مجموعی طور پر اس کیس میں چیئرمین سمیت 19 افسران کے خلاف مقدمہ درج ہے۔
چیئرمین پی اے آر سی کا دفاع:م
تمام بھرتیوں کے لیے اشتہارات جاری کیے گئے تھے۔بھرتیوں کے لیے قانونی سلیکشن کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔چیئرمین کا مؤقف ہے کہ تاحال تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔
جج احمد شہزاد گوندل نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات کا عمل جاری ہے، چیزیں واضح ہوں گی۔
مزید تفتیش کے لیے دونوں ملزمان ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیے گئے۔