اسلام آباد (ایم این این) – اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے خلاف اپیل اور علاج کے لیے انہیں شفا اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سینئر وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کا وکالت نامہ تصدیق نہیں کرایا جا رہا۔
اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ عدالت پہلے کیا سنے، اپیل یا میڈیکل گراؤنڈ پر دائر درخواست۔
عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کے وکالت نامے پر دستخط کروا کر عدالت میں جمع کرایا جائے۔
سینئر وکیل سردار لطیف کھوسہ بھی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ الیکشن کمیشن کے حکام بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔
سردار لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائی جس کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اس کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق وہ اب تک چھبیس دن سزا کاٹ چکے ہیں جبکہ دو سال گیارہ ماہ کی سزا باقی ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ان کے وکیل امجد پرویز اب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب تعینات ہو چکے ہیں، اس لیے نئے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے دو سے تین دن کی مہلت دی جائے۔
ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ کی کاپی پہلے دوسری جانب کو فراہم کی جانی چاہیے تھی۔
عدالت نے سردار لطیف کھوسہ کو فرینڈ آف کورٹ کی رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کی۔ لطیف کھوسہ نے بتایا کہ بطور فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں یہ رپورٹ جمع کرائی تھی اور انہوں نے اسے اپنی درخواست کے ساتھ بھی منسلک کیا ہے۔
سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ سزا کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اٹک جیل میں رکھا گیا تھا جہاں انہیں غیر معمولی صورتحال میں رکھا گیا۔ اس حوالے سے دو ہزار تئیس میں سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں حالت کے حوالے سے سپریم کورٹ نے دو ہزار تئیس میں رپورٹ طلب کی تھی۔ تین سال بعد دو ہزار چھبیس میں کیس دوبارہ لگا جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو آنکھ کا مسئلہ درپیش ہے۔
لطیف کھوسہ کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر پانچ دن تک اس معاملے سے انکار کیا اور بعد ازاں پریس ریلیز جاری کی۔
عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کا ابتدائی طبی معائنہ جیل کے اندر کیا گیا تھا۔
ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ عمران خان کو علاج کے لیے دو مرتبہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسپتال بھی لایا گیا، جہاں ایک مرتبہ انجکشن لگانے کے لیے انہیں منتقل کیا گیا تھا۔
اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا میڈیکل بورڈ کے ذریعے باقاعدہ معائنہ جاری ہے جبکہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کا علاج بھی کیا ہے۔
عدالت نے سردار لطیف کھوسہ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر جیل رولز کے حوالے سے تیاری کر کے آئیں اور عدالت کی معاونت کریں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ ایک پریس ریلیز میں یہ بھی ذکر ہے کہ عمران خان کے علاج کے بارے میں کسی فیملی ممبر کو اطلاع دی گئی تھی۔ اس پر سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ کسی فیملی ممبر کو اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ اہل خانہ کو آگاہ کیا گیا تھا۔
عدالت نے دونوں فریقین کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بارہ مارچ تک ملتوی کر دی۔