صوبہ بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر مالی شفافیت کے سوالات کی زد میں ہے۔ رمضان ریلیف پیکج کی مد میں بگٹی سرکار پر لگنے والے حالیہ الزامات نے نہ صرف انتظامی ساکھ کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومتی زمہ دار خصوصاً ترجمان صوبائی حکومت شاہد رند کی مکمل اور معنی خیز خاموشی غریبوں کے لئے ریلیف کے نام پر حساس معاملے پر لب کشائی نہ کرنا مبینہ طور پر پنجاب اور سندھ سے منگوائی جانیوالے چاول اور “دال میں کچھ کالا” دکھائی دیتا ہے. حکومتی زمہ داران کی طرف سے جواب نہ آنا اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔دال چاول کی غیر شفاف خریداری کے عمل میں مبینہ طور پر پی ڈی ایم اے کے سربراہ جہانزیب خان اور وزیر اعلی کے فرنٹ مین فیصل طارق کا نام بھی گونج رہا ہے.
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پر سب سے زیادہ تنقید 6 ارب روپے کے رمضان راشن پیکج پر ہو رہی ہے۔کیونکہ بظاہر یہ اقدام عوامی ریلیف کے لیے تھا، مگر ناقدین کے مطابق حکومتی وضاحتوں کی کمی نے اسے فلاحی اسکیم کے بجائے سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر خریداری شفاف تھی تو اس کی مکمل تفصیلات، ٹینڈر ریکارڈ اور معاہدوں کی معلومات منظرِ عام پر کیوں نہیں لائی جاتیں؟

تحریر: عثمان خان
سونے پے سہاگہ حکومتی خاموشی نے شکوک و شبہات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا ہے۔
اس معاملے میں تنقید کا رخ PDMA Balochistan اور Balochistan PPRA کی طرف بھی ہے۔ مبینہ طور پر خریداری کو “ایمرجنسی” قرار دے کر معمول کے ٹینڈرنگ قواعد سے ہٹ کر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا رمضان کو قانونی طور پر ایسی ہنگامی صورتحال قرار دیا جا سکتا ہے جس میں اربوں روپے کے فیصلے فوری کیے جائیں؟ ماہرین کے مطابق ہنگامی خریداری کا اصول قدرتی آفات یا غیر متوقع بحرانوں کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ پہلے سے معلوم مذہبی مہینوں کے لیے۔
مقامی تاجروں اور کاروباری تنظیموں نے بھی شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صوبے کے اندر موجود سپلائرز کو نظر انداز کر کے اربوں روپے صوبے سے باہر منتقل کرنا معاشی ناانصافی کے مترادف ہے۔ بلوچستان پہلے ہی روزگار کے محدود مواقع، کمزور صنعتی ڈھانچے اور معاشی دباؤ کا شکار ہے؛ ایسے میں سرکاری خریداری کا سرمایہ اگر مقامی مارکیٹ میں گردش کرتا تو نہ صرف روزگار بڑھتا بلکہ معیشت کو بھی سہارا ملتا۔
یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات تک محدود نہیں رہا بلکہ حکمرانی کے بنیادی اصولوں — شفافیت، احتساب اور عوامی جوابدہی — پر سوال اٹھا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والا سرمایہ کسی بھی حکومت کی امانت ہوتا ہے، جسے ترجیحی بنیادوں پر تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے۔ اگر یہی وسائل غیر واضح فیصلوں میں صرف ہوں تو اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر مکمل ریکارڈ، خریداری کی تفصیلات اور معاہدوں کی نقول جاری نہ کی گئیں تو معاملہ انتظامی تنازع سے بڑھ کر سیاسی بحران بن سکتا ہے۔جس کا چرچہ صوبے کی اسمبلی میں بھی سننے کو ملے گا. ویسے تاریخ گواہ ہے کہ حکومتیں الزامات سے نہیں بلکہ ان کے جواب دینے کے طریقے سے مضبوط یا کمزور ہوتی ہیں۔
آخرکار اصل سوال یہی ہے
کیا 6 ارب کا رمضان پیکج واقعی عوامی ریلیف تھا — یا شفافیت کے امتحان میں حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان؟