شہباز شریف کا آئی ایم ایف سے مطالبہ: پروگرام اہداف پورے کر رہے ہیں، مگر حالیہ سیلابی نقصانات کو بھی مدنظر رکھا جائے

وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کے تحت اپنی ذمہ داریاں مستقل طور پر پوری کر رہا ہے، تاہم حالیہ تباہ کن سیلاب کے اثرات کو آئندہ جائزے میں شامل کیا جانا ضروری ہے۔
یہ گفتگو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے ساتھ ملاقات میں ہوئی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 25 ستمبر کو ہونے والے سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) کے جائزے سے قبل آئی ایم ایف کی مقررہ تمام سات کوانٹیٹیٹیو پرفارمنس کریٹیریا (QPC) پورا کرنے کے قریب ہے۔ یہ جائزہ مارچ تا جون 2025 کی سہ ماہی کارکردگی کا احاطہ کرے گا۔
تاہم وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ دہائیوں بعد آنے والے شدید سیلاب نے دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ صنعتی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے خوراک کی فراہمی، برآمدات اور نازک معاشی بحالی کو سخت دھچکا لگا ہے۔
وزیرِاعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا:
“وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف حاصل کرنے کی جانب مسلسل پیش رفت کر رہا ہے، تاہم حالیہ سیلاب کے معیشت پر اثرات کو بھی جائزے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔”
حکومت نے 2026 کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا تھا، جو زرعی اور صنعتی پیداوار کی بحالی پر مبنی تھا، لیکن رواں سال ریکارڈ بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ کے بڑے علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار کا نقصان 2022 کے سیلاب سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، جب ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا تھا۔
جی او گلم (GEOGLAM) کی رپورٹ کے مطابق یکم اگست سے 16 ستمبر تک کم از کم 2 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر دھان کی فصل زیرِ آب آئی۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں 18 لاکھ ایکڑ زرعی زمین متاثر ہوئی ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے ملاقات میں متاثرہ عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور نقصانات کے درست تخمینے کو بحالی کی ترجیحات کے لیے لازمی قرار دیا۔ انہوں نے وزیرِاعظم کی معاشی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کے لیے آئی ایم ایف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیرِاعظم نے بھی آئی ایم ایف کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور اس کے بروقت اقدامات کا اعتراف کیا، جن میں 2024 میں 3 ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، سات ارب ڈالر کا EFF اور 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی شامل ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں بتدریج مستحکم ہو رہی ہے اور بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔
ورلڈ بینک صدر سے ملاقات
وزیرِاعظم نے ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا سے بھی ملاقات کی۔ پریس ریلیز کے مطابق شہباز شریف نے ورلڈ بینک کی معاونت کو سراہا اور اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا، جس میں وسائل کی بہتر وصولی، توانائی اصلاحات، نجکاری اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF)، جس کے تحت پاکستان کے لیے 40 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں، کا خیر مقدم کیا اور اس پر صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون میں مؤثر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔
ورلڈ بینک کے صدر نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ ادارہ طویل المدتی ترقیاتی اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ CPF کے تحت تعاون کو مزید مستحکم بنایا جائے گا تاکہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں