اپ ڈیٹڈ فلڈ رپورٹ: پاکستان میں سیلابی صورتحال، نقصانات اور امدادی سرگرمیاں

خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 15 سے 19 ستمبر تک صوبے میں بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اپر و لوئر دیر، اپر و لوئر چترال، سوات، اپر و لوئر کوہستان، کولا ئی پالس، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، ملاکنڈ، باجوڑ، مہمند، کوہاٹ، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، خیبر، اورکزئی، کرم، ہنگو، کرک اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں تیز ہوا کے ساتھ بارش اور طوفان متوقع ہے۔

پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ 18 اور 19 ستمبر کو شدید بارشوں سے دریا اور ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے، خصوصاً دیر، چترال، سوات، شانگلہ، بونیر، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی اور مردان کے علاقوں میں۔ لینڈ سلائیڈنگ اور کمزور مکانات، بجلی کے کھمبوں، سولر پینلز اور سائن بورڈز کو نقصان کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اپنی فصلیں اور جانور محفوظ مقامات پر منتقل کریں جبکہ سیاحوں کو خطرناک علاقوں میں جانے سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔

وزیراعظم کی بجلی بل معافی کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ سیلاب زدہ علاقوں کے رہائشی صارفین کو اگست کے بجلی کے بل ادا نہیں کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، عوام اور فوج مل کر متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔ جن صارفین نے پہلے ہی بل ادا کر دیے ہیں ان کی رقم اگلے مہینے کے بل سے منہا کردی جائے گی۔

موٹر ویز اور ٹرانسپورٹ پر اثرات

سیلابی پانی کے خطرے کے باعث موٹر وے M5 کو جلال پور پیر والا کے قریب بند کردیا گیا ہے۔ ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق شمال کی جانب جانے والی ٹریفک کو اوچ شریف اور جلال پور انٹرچینج سے متبادل راستوں پر بھیجا جا رہا ہے، جبکہ جنوب جانے والی ٹریفک کو شاہ شمس اور شجاع آباد کے راستے موڑا جا رہا ہے۔

دریاؤں اور بیراجوں پر صورتحال

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ پر گڈو بیراج میں 6 لاکھ 33 ہزار کیوسک سے زائد پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔ پنجند کے مقام پر دریائے چناب میں بھی اونچے درجے کا سیلاب دیکھا گیا، تاہم اگلے 36 گھنٹوں میں پانی کی سطح درمیانے درجے تک کم ہونے کا امکان ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سکھر بیراج سے آئندہ دنوں میں 7 لاکھ کیوسک پانی گزر سکتا ہے مگر حفاظتی اقدامات مکمل ہیں۔

جانی و مالی نقصانات

پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد 104 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً 25 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ صوبے میں 370 سے زائد ریلیف کیمپس، 459 میڈیکل کیمپس اور 391 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

نارووال میں 10 ارب روپے سے زائد کی زرعی اجناس تباہ ہوچکی ہیں۔ 1.40 لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کھڑی چاول کی فصلیں اور دیگر اجناس پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ کسانوں کے مطابق چار سے پانچ فٹ پانی کھیتوں میں جمع ہے جس سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

سندھ میں خطرناک صورتحال

سندھ کے گھوڑاباری کے قریب چھچھ جھیل کے اوور فلو نے کئی دیہاتوں کو ڈبو دیا ہے۔ مقامی افراد کشتیوں کے ذریعے خوراک اور سامان لا رہے ہیں۔ حفاظتی بند پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ محکمہ انہار کے اقدامات ناکافی نظر آ رہے ہیں۔

حکومتی اقدامات

ملتان کے ڈپٹی کمشنر وسیم حامد نے بتایا کہ گزشتہ تین دن میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ خوراک اور امدادی سامان کشتیوں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے متاثرین تک پہنچایا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بعض نقصانات “خود ساختہ” ہیں کیونکہ غیر محفوظ علاقوں میں تعمیرات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زوننگ قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے وزیراعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے اگست کے بل فوری طور پر منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

عالمی تعاون

اقوام متحدہ کے وفد نے ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر سے ملاقات کی اور جاری امدادی کاموں کو سراہا۔ وفد نے متاثرین کی مدد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

دریاؤں میں موجودہ صورتحال

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گڈو بیراج پر اس وقت 5 لاکھ 49 ہزار کیوسک پانی ہے جبکہ سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ کوٹری بیراج کم درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہا ہے۔

آئندہ ایام کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گڈو بیراج پر 14 سے 15 ستمبر کو پانی انتہائی اونچے درجے پر پہنچ سکتا ہے جبکہ اگلے 24 گھنٹوں میں سکھر بیراج پر بھی سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں، فوج اور بین الاقوامی ادارے سرگرم عمل ہیں، تاہم یہ صورتحال ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور پائیدار منصوبہ بندی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں