اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) سے رجوع کر لیا ہے اور توشہ خانہ-2 کیس میں ٹرائل روکنے اور اپنی اپیل کی فوری سماعت کی استدعا کی ہے۔
یہ اپیل بیرسٹر سلیمان خالد اور خالد یوسف چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نومبر 2024 میں ٹرائل کورٹ نے بریت کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے خلاف 21 جنوری 2025 کو اپیل دائر کی گئی۔ اس اپیل کی آخری سماعت 25 اپریل 2025 کو ہوئی تھی جس کے بعد یہ زیر التوا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اپیل کی سماعت میں تاخیر سے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ٹرائل کورٹ تیزی سے کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔ اگر اپیل پر فیصلہ آنے سے پہلے ٹرائل مکمل ہوگیا تو اپیل کا مقصد ختم ہو جائے گا۔ اسی لیے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اپیل کے فیصلے تک ٹرائل روکا جائے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا میں “ڈیل” سے متعلق خبروں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “اگر کوئی ڈیل ہوتی تو بانی پی ٹی آئی دو سال جیل میں نہ گزارتے۔ ہم ڈیل کے لفظ کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے خلاف کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی عدلیہ کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں کو نااہلی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جو لوگ پارٹی چھوڑ گئے ان پر کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا۔
سیاسی مذاکرات سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کئی مواقع پر لچک دکھائی لیکن ان کی بات سنی نہیں گئی۔ “دوسری جانب سے بھی کچھ خیرسگالی دکھائی جانی چاہیے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا حق بھی نہیں دیا جا رہا، جو کہ ان کا حق ہے۔”
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سلیمان اکرم راجہ کے استعفے کی تفصیلات ان کے علم میں نہیں ہیں، تاہم اب یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔