اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے “نیو یارک ڈیکلیریشن” منظور کرلیا، دو ریاستی حل کی نئی کوشش

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعہ کے روز “نیو یارک ڈیکلیریشن” کے نام سے ایک قرارداد منظور کی ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ اس قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو رہا کرنا ہوگا۔

یہ قرارداد 142 ووٹوں کے ساتھ منظور ہوئی، جب کہ 10 ممالک نے اس کی مخالفت کی، جن میں اسرائیل اور اس کا اہم اتحادی امریکہ شامل ہیں، جبکہ 12 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد میں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کی کھل کر مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے غزہ کی جنگ کو ختم کیا جائے تاکہ فلسطین کے مسئلے کا ایک منصفانہ اور پائیدار حل نکالا جاسکے جو دو ریاستی فارمولے پر مبنی ہو۔

یہ ڈیکلیریشن فرانس اور سعودی عرب نے پیش کیا تھا جس کی پہلے ہی عرب لیگ توثیق کرچکی ہے جبکہ 17 رکن ممالک نے جولائی میں اس پر دستخط بھی کیے تھے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے تناظر میں حماس کو غزہ پر اپنی حکمرانی ختم کرنا ہوگی اور ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے ہوں گے، تاکہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی استحکام مشن تعینات کیا جاسکتا ہے تاکہ فلسطینی عوام کی حفاظت اور سکیورٹی کی ذمہ داریوں کو فلسطینی اتھارٹی تک منتقل کرنے میں مدد دی جا سکے۔

یہ ووٹنگ 22 ستمبر کو نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس سے قبل ہوئی ہے جس کی صدارت سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طور پر کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس اجلاس میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا وعدہ کرچکے ہیں جبکہ کئی دیگر رہنما بھی ایسا ہی اعلان کرنے والے ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ “ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ کوئی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی۔” دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کی اس اجلاس میں شرکت مشکوک ہوگئی ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ امریکی حکام انہیں ویزا دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 65 ہزار فلسطینی اسرائیلی کارروائیوں میں جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی اسرائیل کی کارروائیوں کو “نسل کشی” قرار دے چکی ہیں جسے اسرائیل رد کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں