راولپنڈی میں علیمہ خان، نعیم پنجوتھا اور دیگر کے خلاف صحافی پر تشدد کا مقدمہ درج

راولپنڈی پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، جماعت کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا اور دیگر کارکنوں کے خلاف اڈیالہ جیل کے باہر ایک صحافی پر حملے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمہ صدر بیرونی تھانے میں سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے صدر طیّب بلوچ کی درخواست پر درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147 (ہنگامہ آرائی کی سزا)، 149 (ناجائز اجتماع کے اراکین کا جرم میں شریک ہونا)، 382 (چوری کے لیے جان یا جسمانی نقصان پہنچانے کی تیاری)، 427 (نقصان پہنچانے کی کارروائی) اور 506 (جان سے مارنے کی دھمکی) شامل کی گئی ہیں۔

درخواست گزار طیّب بلوچ نے کہا کہ وہ شام تقریباً 3 بج کر 55 منٹ پر اڈیالہ جیل کے باہر دیگر صحافیوں کے ساتھ رپورٹنگ کر رہے تھے جب علیمہ خان نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو شروع کی۔ ان کے مطابق اسی دوران پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا نے آواز لگائی: ’’اسے سبق سکھاؤ، یہ علیمہ خان سے جائیدادوں کے بارے میں سوال کرتا ہے۔‘‘ اس کے فوراً بعد 35 سے 40 افراد نے انہیں گھیر کر زمین پر گرا دیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

طیّب بلوچ نے مزید الزام لگایا کہ دورانِ حملہ ان کا موبائل فون چھین لیا گیا، مائیک توڑ دیا گیا جبکہ دیگر صحافیوں کو بھی، جو انہیں بچانے آئے تھے، زد و کوب کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر نکل سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل علیمہ خان سے امریکہ میں جائیداد خریدنے کے حوالے سے سوال کیا تھا جس پر وہ ناخوش تھیں۔ ان کے مطابق علیمہ خان کے ساتھیوں نے پہلے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالیں اور افواہیں پھیلائیں، اور آج ایک منصوبہ بندی کے تحت ان پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے علیمہ خان، نعیم پنجوتھا اور دیگر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب نعیم پنجوتھا نے ایف آئی آر کو ’’جھوٹا مقدمہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اور علیمہ خان کے خلاف سازش رچائی جارہی ہے۔

واقعے کے بعد صحافیوں نے علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے ہاتھوں ان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ ناقابلِ قبول ہے۔

یہ واقعہ اس وقت کے چند دن بعد پیش آیا جب علیمہ خان کو اڈیالہ جیل کے باہر ایک اور میڈیا گفتگو کے دوران دو خواتین نے انڈے مار کر ہراساں کیا تھا۔ اس موقع پر علیمہ چند لمحے کے لیے ہڑبڑا گئیں مگر جلد ہی سنبھلتے ہوئے کہا کہ ’’ہم پر حملے ہوں گے، ہمیں اس کا اندازہ تھا‘‘ اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ ان خواتین کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور وہ خیبرپختونخوا سے آئے سرکاری ملازمین کے احتجاجی گروپ کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں۔ بعد ازاں دونوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

انڈے پھینکنے کے واقعے پر پی ٹی آئی رہنما سیما بیا طاہر سمیت دیگر کارکنوں نے شدید احتجاج کیا اور خواتین کو پارٹی کے خلاف سازش کا حصہ قرار دیا۔

صحافی پر حملے کی تازہ واردات پر سیاسی اور صحافتی حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ طیّب بلوچ کو صرف اختلافِ رائے کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سخت قانونی کارروائی ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، ندیم افضل چن اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے اسے ’’افسوسناک اور قابلِ مذمت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں اس رجحان کو روکنے میں کردار ادا نہ کریں تو یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ’’سیاست اور صحافت ایک ساتھ مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ساتھ کمزور پڑتے ہیں۔‘‘

اپنا تبصرہ لکھیں