پاکستان اور بھارت منگل سے شروع ہونے والے ایشیا کپ میں ہائی وولٹیج مقابلے کے لیے تیار ہیں، جو مئی میں ہونے والے فوجی تصادم کے بعد دونوں ٹیموں کا پہلا کرکٹ ٹاکرا ہوگا۔
آٹھ ٹیموں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کا آغاز ابوظہبی میں افغانستان اور ہانگ کانگ کے میچ سے ہوگا، جبکہ سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا پاک بھارت میچ 14 ستمبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کھلاڑیوں اور شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ “ڈسپلن میں رہیں اور حد پار نہ کریں۔”
پاکستان اور بھارت نے 2012 کے بعد سے کسی بھی ملک میں دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی، اور اب صرف غیر جانبدار مقامات پر بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے آتے ہیں۔ دونوں ٹیمیں ایک ہی گروپ میں شامل ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے دوران تین بار تک آمنے سامنے ہوں۔ ایونٹ کا فائنل 28 ستمبر کو دبئی میں ہوگا۔
یہ ٹورنامنٹ ایسے وقت میں کھیلا جا رہا ہے جب مئی میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ شدید جھڑپ میں 70 سے زائد افراد میزائل، ڈرون اور توپ خانے کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد فائر بندی پر اتفاق ہوا۔ اس کشیدگی نے کھیلوں پر بھی اثر ڈالا، جب یوراج سنگھ کی قیادت میں بھارت کے سابق کھلاڑیوں نے انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان کے خلاف سیمی فائنل کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
کرکٹ کے میدان میں بھارت ایشیا کپ کے دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آئے گا۔ کپتان سوریہ کمار یادو کی قیادت میں بھارتی ٹیم کو پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچز میں 10-3 کا برتری ریکارڈ حاصل ہے۔ دونوں ٹیمیں آخری بار فروری میں دبئی میں چیمپئنز ٹرافی کے دوران مدمقابل آئیں، جہاں بھارت نے چھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور بعد میں ٹائٹل جیتا۔
پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ناقص فارم کی وجہ سے بابر اعظم اور محمد رضوان کو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔
ایونٹ میں ایشین کرکٹ کونسل کے پانچ مکمل رکن ممالک — افغانستان، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا — براہ راست شریک ہیں، جبکہ ہانگ کانگ، عمان اور میزبان متحدہ عرب امارات نے اے سی سی مین پریمیئر کپ میں ٹاپ تین میں جگہ بنا کر کوالیفائی کیا۔ گروپ اے میں بھارت، پاکستان، عمان اور میزبان یو اے ای شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ہانگ کانگ ہوں گے۔
گروپ اسٹیج کے بعد سپر فور مرحلہ ہوگا اور پھر فائنل 28 ستمبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔