وزیرِاعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی کیانگ کا ملاقات میں سی پیک فیز ٹو پر قریبی تعاون پر اتفاق، 4.2 ارب ڈالر کے معاہدے

بیجنگ/اسلام آباد – وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو بیجنگ میں چینی وزیراعظم لی کیانگ سے ملاقات میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کو تیزی سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کو وزیراعظم نے نہایت ’’گرم جوش، تعمیری اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا۔ اس موقع پر پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان 4.2 ارب ڈالر مالیت کے مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط بھی ہوئے۔

وزیراعظم اس وقت چین کے چھ روزہ دورے پر ہیں، جہاں وہ 31 اگست سے یکم ستمبر تک تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ ان کے اس دورے کا مرکزی ایجنڈا پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، خاص طور پر سی پیک کے دوسرے مرحلے (سی پیک 2.0) کے آغاز کے ذریعے، جس میں صنعتی، زرعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔

سی پیک کا پاکستان کی ترقی میں کردار

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں سی پیک نے پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت انفراسٹرکچر، توانائی اور علاقائی رابطے میں واضح بہتری آئی۔ انہوں نے زور دیا کہ مین لائن-1 (ایم ایل-1) ریلوے اپ گریڈ، قراقرم ہائی وے کی ازسرِ نو تعمیر اور گوادر پورٹ کی مکمل فعالیت جیسے بڑے منصوبوں پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی تجارتی صلاحیت کھل کر سامنے آ سکے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں محض سڑکوں اور بجلی کے منصوبے شامل نہیں بلکہ صنعتی تعاون، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات کے شعبوں کو بھی مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں ایک تجارتی و لاجسٹک حب کے طور پر ابھرنے کی پوزیشن میں ہے، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

آہنی برادری اور چین کی معاونت

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد وزیراعظم لی کیانگ سے ہونے والی بات چیت میں بھی دونوں رہنماؤں نے پاک-چین “آہنی اور ہر موسم کی شراکت داری” پر اعتماد کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے پاکستان کی خودمختاری اور معیشت کے استحکام کے لئے چین کی “غیر متزلزل حمایت” پر چینی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ چین نے جون میں پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کے لئے 3.4 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کیے تھے۔ وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان جلد چین کی سرمایہ منڈی میں “پانڈا بانڈز” متعارف کرائے گا، جو چینی کرنسی یوان میں جاری کیے جائیں گے۔

بزنس ٹو بزنس کانفرنس اور سرمایہ کاری کی پیشکش

بیجنگ میں منعقدہ پاک-چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اس اجلاس میں 500 چینی اور 300 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی۔ انہوں نے اسے دونوں ممالک کے کاروباری طبقے کے درمیان تعاون کو بڑھانے کا ایک شاندار موقع قرار دیا۔

انہوں نے چینی کمپنیوں کو خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) میں صنعتوں کی منتقلی کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سستی افرادی قوت، کم لاگت پیداوار اور عالمی منڈیوں تک تزویراتی رسائی کے باعث ایک منفرد برتری رکھتا ہے۔

چینی سرمایہ کاروں کی سلامتی اولین ترجیح

وزیراعظم شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں اور کارکنوں کی سلامتی کو پاکستان کی “اولین ترجیح” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان میں موجود ہمارے چینی بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت ہمارے لیے سب سے اہم ہے اور ہم اس ضمن میں کسی تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔”

انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے لیکن یقین دلایا کہ اب پاکستان چینی معیار کے مطابق تیزی سے پیش رفت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان اور چین دونوں کے لئے “ون-ون شراکت داری” ہے، جو خطے کی ترقی کا نقشہ بدل دے گا۔

نئے شعبوں میں تعاون

ملاقات کے دوران سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آئی ٹی، میڈیا، زراعت اور صنعتی تعاون کے لئے مشترکہ ایکشن پلان 2024-2029 پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے عالمی اقدامات جیسے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو اور گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے چین کے وزیر برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی لی لی چنگ سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے پاکستان کو “آہنی بھائی” قرار دیتے ہوئے تعلقات کو “مزید بلندیوں” پر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائیں گے۔

4.2 ارب ڈالر کے معاہدے

وزیراعظم کے دورے کے دوران پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان 21 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جن کی مالیت 4.2 ارب ڈالر ہے۔ یہ معاہدے ٹیکسٹائل، معدنیات، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں پر محیط ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اس میں چین کا کردار بنیادی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اب عالمی اقتصادی دوڑ میں مسابقت کے لئے تیار ہے اور چین کے ساتھ تعاون بڑھا کر مشترکہ خوشحالی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: “صدر شی جن پنگ کے وژن اور پاک-چین لازوال دوستی سے رہنمائی لیتے ہوئے ہم ایک مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لئے پرعزم ہیں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں