بیجنگ ؛ بیجنگ کے تاریخی تیانمن اسکوائر میں عظیم فوجی پریڈ منعقد کر رہا ہے، جو دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر سجائی جا رہی ہے۔ اس پریڈ کو چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور عالمی اثرورسوخ کے اظہار کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، جو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پہلے ہی چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں، اس تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوں گے۔ پاکستانی حکام کے مطابق وزیر اعظم کی شرکت نہ صرف پاک-چین دوستی کی علامت ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور اقتصادی تعلقات خصوصاً سی پیک کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اس کے برعکس، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، جنہوں نے تیانجن میں ایس سی او اجلاس میں شرکت کی، اجلاس کے فوراً بعد نئی دہلی روانہ ہو گئے اور فوجی پریڈ میں شریک نہیں ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ فیصلہ چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کی محتاط حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔
فوجی پریڈ میں چین کے جدید ترین ہتھیار، بشمول ہائپر سونک میزائل، اسٹیلتھ طیارے، ڈرون اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پیش کیے جائیں گے۔ صدر شی جن پنگ تقریب کی صدارت کریں گے اور دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ چین نہ صرف دوسری جنگ عظیم کے اہم فاتح ممالک میں شامل تھا بلکہ آج کے عالمی منظرنامے میں بھی ایک بڑی طاقت ہے۔
اس موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سمیت متعدد ممالک کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔ کل ملا کر ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کے 25 سے زائد ممالک کے رہنما یا نمائندے تقریب میں شرکت کریں گے، تاہم یورپی ممالک کی شمولیت محدود ہے اور صرف چند ریاستوں جیسے سربیا اور سلوواکیہ کے رہنما شریک ہوں گے۔
پاکستان کے لیے یہ موقع نہ صرف چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سفارتی پوزیشن کو نمایاں کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ بھارت کی غیر موجودگی کے پس منظر میں وزیر اعظم شہباز شریف کی شرکت چین کے لیے پاکستان کو قریبی شراکت دار کے طور پر اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
یہ پریڈ محض عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں کا عکس بھی ہے، جس میں پاکستان ایک نمایاں حیثیت کے ساتھ شریک ہے۔