صنعاء میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں یمن کے حوثی حکومت کے وزیراعظم احمد غالب الرحاوی ہلاک ہوگئے۔ حوثیوں نے ہفتے کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ جمعرات کے روز کیے گئے حملے میں الرحاوی کے ساتھ کئی وزراء بھی جاں بحق ہوئے، تاہم ان کی تعداد واضح نہیں کی گئی۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ دارالحکومت میں ایک ورکشاپ میں شریک تھے۔
حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین مہدی المشاط نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اسرائیل سے انتقام لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: “ہم زخموں کی گہرائیوں سے فتح تراشیں گے۔”
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے “حوثی دہشت گرد حکومت کے ایک فوجی ہدف” کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل اور غزہ کی جنگ کے دوران حوثی گروپ نے اسرائیل اور بحیرہ احمر و خلیج عدن میں مغربی جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
حوثی صدارتی بیان میں کہا گیا کہ “شہید احمد غالب الرحاوی اور ان کے ساتھیوں کا خون اس راستے کو جاری رکھنے کے لیے ایندھن کا کام کرے گا۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومتی ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گے۔
اسرائیلی میڈیا نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کو ہونے والا حملہ پورے حوثی کابینہ کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، جس میں وزیراعظم اور 12 وزراء شامل تھے۔ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد اب تک واضح نہیں۔
اس سے صرف چار روز قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس حملے میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانے اور صدارتی محل کو نشانہ بنایا تھا۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل اب حوثیوں کی قیادت کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ان کی کارروائیوں کو روک سکے، جیسا کہ ماضی میں حماس، حزب اللہ اور اسلامی جہاد کے خلاف حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔