پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں دریاؤں میں طغیانی اور مسلسل بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق صوبے میں اب تک 30 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ دریائے راوی اور ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور بلوکی کے مقامات پر انتہائی بلند سطح کا سیلاب برقرار ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا اور آرمی چیف نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا انخلا اور ریسکیو آپریشن قرار دیا۔ ان کے مطابق اب تک 6 لاکھ افراد اور تقریباً ساڑھے چار لاکھ مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
پنجاب میں اقدامات
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ ’’ہم دہائیوں بعد ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھارت نے اپنے اسپلوے کھول دیے جس سے ہمارے دریا مزید بھر گئے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع جھنگ، ملتان، مظفرگڑھ اور اوکاڑہ میں الرٹ جاری ہے اور جدید ٹیکنالوجی جیسے تھرمل امیجنگ ڈرونز کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ اسکولوں میں عارضی پناہ گاہیں قائم کریں، موبائل بیت الخلا اور میڈیکل کیمپس فعال رکھیں، اور متاثرہ افراد کو پکا ہوا کھانا، خشک راشن اور جانوروں کے لیے چارہ فراہم کریں۔
سندھ میں صورتحال
سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے مطابق پنجاب سے آنے والا پانی 2 اور 3 ستمبر کو سندھ میں داخل ہوگا۔ ٹنڈو محمد خان میں ماقبر و شریف کے علاقے میں بڑی ٹینٹ سٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو عارضی رہائش فراہم کی جا سکے۔ نوشہرو فیروز میں محکمہ لائیو اسٹاک نے مویشیوں کی ویکسینیشن کے لیے کیمپ قائم کر دیے ہیں۔
جامشورو میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ سیہون اور منجھند کی تحصیلوں کے 28 دیہات پہلے ہی زیر آب آ چکے ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید دیہات متاثر ہو سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں بارش اور شہری سیلاب
پشاور اور گردونواح میں مسلسل بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق 256 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ 50 سے زائد ڈی واٹرنگ پمپ لگا کر پانی نکالا گیا۔
ریلیف و بحالی کے اقدامات
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جن علاقوں میں پانی اتر چکا ہے وہاں اسپتالوں اور صحت مراکز سے پانی نکالنا اولین ترجیح ہے۔ کرتارپور میں خصوصی ڈی واٹرنگ آپریشن 24 گھنٹوں میں مکمل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت مستقبل میں چھوٹے ڈیمز اور شجر کاری منصوبوں پر غور کر رہی ہے تاکہ بارشوں کے پانی کو محفوظ کیا جا سکے۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا شکار ہے اور آئندہ مون سون موجودہ سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔
نقصانات اور خطرات
این ڈی ایم اے کے رکن ادریس محسود نے بتایا کہ فی الحال توجہ سرچ، ریسکیو، انخلا اور بیماریوں کی روک تھام پر ہے۔ ان کے مطابق سیلاب کے دوران زیادہ تر اموات چھتیں گرنے سے ہوئیں۔ مکمل نقصانات کا اندازہ پانی اترنے کے بعد لگایا جائے گا۔
پنجاب پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 3 ستمبر تک دریائے ستلج، راوی اور چناب میں شدید سے انتہائی شدید سیلاب جاری رہے گا، جبکہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بھی بڑھ رہی ہے جس سے سندھ کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔