ہمالیائی بارشوں سے بھارت میں تباہی، پاکستان میں سیلابی الرٹ

اسلام آباد – ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں موسلا دھار مون سون بارشوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کم از کم 36 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ حکام کو بڑے ڈیموں کے اسپل ویز کھولنے پڑے۔ اس اقدام سے پاکستان میں دریاؤں کے طغیانی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جہاں پہلے ہی نشیبی اضلاع زیرِ آب آچکے ہیں۔

بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہندو مذہبی مقام ماتا ویشنو دیوی کے قریب بدترین سانحہ پیش آیا، جہاں منگل کے روز ایک بڑی لینڈ سلائیڈ نے 33 یاتریوں کی جان لے لی۔ ڈوڈہ ضلع میں دریا کے کنارے ٹوٹنے اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے سے مزید تین افراد ہلاک ہوئے۔ بھارتی پنجاب میں ایک اسکول کی عمارت پانی میں گھرنے سے 200 کے قریب بچے محصور ہوگئے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں 23 اگست سے اب تک 612 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، جو 1950 کے بعد سب سے زیادہ اور معمول سے سات گنا زائد ہے۔ شدید بارشوں نے ہائی ویز کو نقصان پہنچایا اور ٹیلی کمیونی کیشن سسٹم معطل کردیا، جس سے ریسکیو آپریشنز بری طرح متاثر ہوئے۔

مسلسل بارشوں کے باعث بھارتی حکام نے جموں و کشمیر میں متعدد ڈیم کھول دیے۔ نئی دہلی کے حکام نے تصدیق کی کہ اضافی پانی دریائے راوی، چناب اور ستلج میں چھوڑا گیا ہے، جو پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ اسلام آباد نے بھارت کی جانب سے وارننگ موصول ہونے کے بعد ملک میں سیلابی الرٹس جاری کر دیے۔

پاکستان میں بھارتی پانی کے اخراج نے پہلے سے جاری مون سون بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق صوبہ پنجاب میں گردوارہ کرتارپور صاحب بھی پانی کی لپیٹ میں آگیا۔ صرف وسط اگست سے اب تک پنجاب میں ایک لاکھ 67 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے 40 ہزار نے پیشگی انتباہ پر رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کی۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق ملک بھر میں رواں مون سون سیزن کے آغاز (جون کے آخر) سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 804 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے نصف صرف اگست میں رپورٹ ہوئیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں کی ریکارڈ سطح میں اضافہ پنجاب کے نشیبی علاقوں کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں