پنجاب میں شدید سیلاب، حکومت اور فوج نے ریلیف اور ریسکیو آپریشنز شروع کر دیے

لاہور – مون سون کی شدید بارشوں اور دریاؤں کے اُبلنے کے باعث پنجاب کے کئی اضلاع میں شدید سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس سے ہزاروں افراد اور مویشیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے فوری طور پر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز تیز کر دیے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر نقصان کو روکا جا سکے۔

چار گھنٹے طویل اعلیٰ سطحی اجلاس میں متاثرہ اضلاع جیسے لاہور، قصور، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور سرگودھا میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ دریائے ستلج کے اُبلنے سے قصور کے 72 گاؤں زیرِ آب آ گئے ہیں، جہاں تقریباً 45 ہزار افراد متاثر ہوئے، جبکہ پاکپتن (12 گاؤں)، وہاڑی (23 گاؤں)، بہاولنگر (75 گاؤں) اور بہاولپور (15 گاؤں) بھی شدید متاثر ہوئے۔ تمام دستیاب وسائل کو ریسکیو اور ریلیف کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔

پاکستان آرمی گزشتہ شب سے لاہور، فیصل آباد، اوکاڑہ، قصور، سیالکوٹ اور نارووال میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے مصروف عمل ہے۔ فوجی قافلے سیلاب زدہ افراد بشمول بچے، خواتین اور بزرگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ فوج نے متاثرہ افراد کے سامان اور مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات تک منتقل کروایا۔ قصور اور گنڈا سنگھ والا سمیت دریائے ستلج کے کنارے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ متاثرہ افراد کے لیے ریلیف کیمپ بھی فوج اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے قائم کیے گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس فرنٹ لائن پر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں، جبکہ فوجی امداد ان کوششوں کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ اب تک 130 سے زائد کشتیوں، 115 آؤٹ بورڈ موٹرز، 6 اے ایم بی بائیکس، 1,300 لائف جیکٹس اور 245 لائف رنگز ریسکیو کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔ 1.5 لاکھ سے زائد افراد اور 35 ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف، میڈیکل اور ویٹرنری کیمپ قائم ہیں۔ اب تک 2,600 سے زائد سیلاب متاثرین کو میڈیکل علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ صوبے کے تمام ہسپتال ہنگامی اقدامات پر عمل درآمد کریں تاکہ سیلاب زدگان کی فوری دیکھ بھال ممکن ہو۔ اجلاس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں