اسلام آباد – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل سے ایک نہایت سخت اور دو ٹوک بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے ملک کے طاقتور حلقوں پر آمریت مسلط کرنے، سیاسی مخالفین کو کچلنے اور اہلِ خانہ کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔ یہ بیان آج پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ @PTIofficial سے جاری کیا گیا۔
عمران خان، جو بدعنوانی کے مقدمات میں سزا کے بعد جیل میں ہیں، نے کہا کہ 9 مئی 2023 کے واقعات ایک منظم منصوبے کے تحت کروائے گئے تاکہ پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کا بہانہ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور ان کے خاندان کو دباؤ میں لانے کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: “میرے بھانجے شہریز اور شیرشاہ کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا گیا کہ وہ میرے رشتہ دار ہیں، حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ یہ سلوک انتہائی غیر انسانی اور ظالمانہ ہے۔”
عمران خان نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں بھی قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور تین ماہ میں صرف تین ملاقاتوں کی اجازت ملی ہے۔ ان کے مطابق میڈیا کو دبایا جا رہا ہے، عدلیہ کو دباؤ میں رکھا جا رہا ہے اور پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں گے، چاہے انہیں جیل میں مزید عرصہ گزارنا پڑے۔
اپنے بیان میں انہوں نے پالیسی امور پر بھی بات کی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو ہدایت دی کہ وہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز اور ڈرون حملوں کی مخالفت کریں، کیونکہ ان سے دہشت گردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ افغان مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی پالیسی کے حوالے سے اپنی حکومت کے “بلین ٹری سونامی” منصوبے کا بھی ذکر کیا، جسے انہوں نے پائیدار ترقی کی ایک مثال قرار دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کا تازہ ترین بیان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت یا مفاہمت کے امکانات کو ختم کر دیتا ہے۔ ان کے نزدیک عمران خان کا لہجہ واضح کرتا ہے کہ وہ سمجھوتے کے بجائے تصادم کی راہ پر گامزن ہیں اور عوامی حمایت کو اپنی اصل طاقت سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب عسکری قیادت کئی بار یہ واضح کر چکی ہے کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں سے کسی بھی قسم کی ڈیل ممکن نہیں۔ اس دوٹوک مؤقف اور عمران خان کے حالیہ اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں سیاسی کشمکش مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔