لاہور: صحافی سہیل وڑائچ کے کالم کے بعد شروع ہونے والا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، ایک جانب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور میں ان کے خلاف ’’جھوٹی خبر پھیلانے‘‘ پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی ہے تو دوسری جانب سہیل وڑائچ نے اپنے وضاحتی بیان میں مؤقف اپنایا ہے کہ ان کے کالم کو ’’غلط سمجھا گیا‘‘ ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ اور سوشل میڈیا پر ایک تحریر میں لکھا تھا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے برسلز میں قیام کے دوران کہا کہ ’’سیاسی مفاہمت صرف خلوص دل سے معافی کے بعد ممکن ہے‘‘۔ تاہم، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس خبر کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ آرمی چیف نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا اور نہ ہی معافی کا ذکر کیا۔
ادھر سہیل وڑائچ نے جمعے کو اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کا کالم دراصل ’’غلط فہمی‘‘ کا شکار ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے کالم میں نہ تو مئی 9 کے واقعات، نہ عمران خان، اور نہ ہی کسی کی معافی کا ذکر کیا گیا تھا۔ وڑائچ کے مطابق:
“میرے کالم میں صرف ایک جملہ ہے کہ سیاسی مفاہمت کے حوالے سے آرمی چیف نے قرآن کریم کی آیات اور ان کا ترجمہ پیش کیا۔ باقی جو بھی تاثر لیا گیا، وہ قاری یا ناقدین کی اپنی مرضی تھی۔”
انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جن نکات کی تردید کی گئی ہے، وہ ان کے کالم کا حصہ ہی نہیں تھے۔ وڑائچ کے بقول: “میرا کالم ’پہلی ملاقات‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا، میں نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ یہ کوئی باضابطہ انٹرویو تھا۔”
سہیل وڑائچ نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ بحث و تکرار سے گریز کرتے آئے ہیں اور وقت اور تاریخ ہی سب کچھ واضح کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کالم کو بنیاد بنا کر من پسند تشریحات کرنے والے دراصل اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔