کابل/اسلام آباد: پاکستان نے بدھ کو افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابل پر زور دیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)/مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کرے۔
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ مطالبہ کابل میں چھٹی سہ فریقی وزرائے خارجہ ڈائیلاگ کے موقع پر افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے دو طرفہ ملاقات میں کیا۔ اجلاس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی بھی شریک ہوئے۔
پاکستان نے پہلی بار سرکاری طور پر کابل کو آگاہ کیا کہ بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ صرف 2025 میں اب تک 300 سے زائد دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ اسحاق ڈار نے تسلیم کیا کہ سیاسی و تجارتی تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے تاہم انسداد دہشت گردی کے میدان میں تعاون ابھی ناکافی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی ترقی، صحت، تعلیم، ثقافت، منشیات کے انسداد اور سی پیک کی توسیع پر بھی اتفاق کیا گیا۔
فریقین نے سفارتی تعلقات کو ناظم الامور کی سطح سے سفیر کی سطح تک بڑھانے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اپریل اور جولائی میں ڈار کے دورۂ کابل اور 21 مئی کو بیجنگ اجلاس کے بیشتر فیصلے نافذ العمل ہوچکے ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں۔
افغان وزیر خارجہ متقی نے اعادہ کیا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
دریں اثنا، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان قیادت سے ملاقاتوں میں کہا کہ چین افغانستان میں کان کنی، زراعت اور تجارت میں عملی تعاون بڑھانا چاہتا ہے اور اس کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں افغانستان کی شمولیت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شدت پسندوں کے خلاف سخت اقدامات دونوں ممالک کے لیے دیرپا استحکام کی ضمانت ہوں گے۔