یوم آزادی پر مودی کی تقریر، اپوزیشن کا شدید ردعمل

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی لال قلعے سے یوم آزادی کی تقریر پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے قومی پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور ملک میں تقسیم پیدا کرنے والا بیانیہ اپنایا۔

اپنی تقریر میں مودی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو، جو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی ماں جماعت ہے، “دنیا کی سب سے بڑی این جی او” قرار دیتے ہوئے اس کی خدمات کو سراہا۔ یوم آزادی جیسے موقع پر آر ایس ایس کی تعریف اپوزیشن رہنماؤں کے لیے سخت تنقید کا باعث بنی۔

کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے نے سب سے پہلے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی تعریف دراصل ہندوستان کے آزادی کے متوالوں کی توہین ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تنظیم کئی دہائیوں تک قومی پرچم لہرانے سے انکار کرتی رہی اور ناقدین طویل عرصے سے اس پر انگریزوں سے تعاون کرنے کا الزام لگاتے آئے ہیں۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے آر ایس ایس کو “ایجنٹ” اور “دلال” تک قرار دیا۔

مودی کی سرحدی دراندازی سے متعلق باتیں بھی اپوزیشن کے نشانے پر آئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر قانونی ہجرت کے ذریعے ملک کی آبادیاتی ساخت بدلنے کی “سوچی سمجھی سازش” جاری ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے “ہائی پاورڈ ڈیموگرافی مشن” شروع کرنے کا اعلان کیا۔

ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مودی کے یہ دعوے دراصل ان کی حکومت کی ناکامی کا اعتراف ہیں۔ ان کے مطابق سرحدی کنٹرول بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور مرکزی وزارتوں کے دائرے میں آتا ہے جو براہِ راست وزیر داخلہ امیت شاہ اور مرکزی حکومت کے ماتحت ہیں۔ لہٰذا اگر دراندازی ہو رہی ہے تو یہ براہِ راست حکومت کی نااہلی ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے مجموعی طور پر مودی پر الزام لگایا کہ وہ آر ایس ایس کے نظریے پر مبنی ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں، جس سے قومی ادارے کمزور ہو رہے ہیں، قومی تقریبات سیاسی رنگ اختیار کر رہی ہیں اور ملک مذہبی انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

اس ردعمل نے سیاسی خلیج کو مزید واضح کر دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ لال قلعے سے وزیر اعظم کی تقریر—جو ہمیشہ قومی یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے—اب نظریاتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے اور معاشرتی تناؤ کو بڑھا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں