کراچی میں کے-فور منصوبے میں تاخیر پر بلاول کی وزیرِاعظم شہباز شریف پر تنقید، شہر کیلئے ’شہباز اسپیڈ‘ کا مطالبہ

کراچی – پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو وزیرِاعظم شہباز شریف کو کراچی کے کے-فور پانی فراہمی منصوبے میں غیر معمولی تاخیر پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جس طرح لاہور میں ’شہباز اسپیڈ‘ دکھائی جاتی ہے، کراچی میں بھی اسی رفتار کی ضرورت ہے، نہ کہ ’شہباز سلو‘۔

حب ڈیم سے کراچی کیلئے نئی نہر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلاول نے وزیرِاعظم کو یاد دلایا کہ بطور وزیرِاعلیٰ پنجاب وہ تیز رفتار منصوبہ بندی کے لیے مشہور تھے، اور مطالبہ کیا کہ کراچی سے متعلق وعدے فوری طور پر پورے کیے جائیں۔

کے-فور منصوبہ، جو 2000 کی دہائی کے اوائل میں کراچی کے پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، بار بار تاخیر اور لاگت میں اضافے کا شکار رہا ہے۔ رواں سال منصوبے کیلئے 40 ارب روپے کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 3.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر حکام کو خدشہ ہے کہ منصوبہ مزید ایک دہائی تک مکمل نہیں ہو سکے گا۔

وفاقی حکومت کی محدود فنڈنگ پر حکومتی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ سندھ حکومت نے اس مختص رقم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وفاقی بجٹ پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔

سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے زور دیا کہ وفاق کو غیر ضروری اخراجات ختم کرکے وسائل کا محتاط استعمال یقینی بنانا ہوگا، ورنہ کمزور مالی نظم و نسق قومی اقتصادی پالیسی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب، 2022 میں منظور ہونے والا صوبائی منصوبہ — نئی حب نہر — کراچی کو یومیہ 100 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کرے گا۔ اس منصوبے میں نئی نہر کی تعمیر، پرانی نہر کی بحالی، اور حب پمپنگ اسٹیشن و فلٹر پلانٹ کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔

بلاول نے کہا کہ نئی نہر سے پانی ضلع وسطی، ضلع شرقی اور کیماڑی کو فراہم کیا جائے گا، جبکہ مستقبل میں لیاری اور قریبی جزیروں تک اس کا دائرہ بڑھانے کی امید ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرانی نہر کی بحالی کا کام بھی جاری ہے اور پیپلز پارٹی وزیراعلیٰ سے کراچی کیلئے پانی کی مقدار 200 ایم جی ڈی تک بڑھانے کی کوشش کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں