اسلام آباد – موڈیز ریٹنگز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa2 سے بہتر کر کے Caa1 کر دی ہے اور آؤٹ لک کو ’مستحکم‘ (Stable) قرار دیا ہے۔ ادارے نے یہ فیصلہ پاکستان کی بہتر مالی صورتحال اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعاون سے حاصل ہونے والی سپورٹ، ساتھ ہی حکومت کی مالیاتی استحکام کی پالیسیوں کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے کیا۔
بدھ کو جاری بیان میں موڈیز نے کہا کہ یہ اپ گریڈنگ پچھلے چار ماہ میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز اور فچ ریٹنگز کی جانب سے کیے گئے اسی نوعیت کے اقدامات کے بعد کی گئی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت نے بارہا مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
موڈیز نے پاکستان کے مقامی اور غیر ملکی کرنسی کے اجرا کنندہ (issuer) اور سینیئر غیر محفوظ قرضوں (senior unsecured debt) کی ریٹنگ Caa2 سے بڑھا کر Caa1 کر دی، جبکہ سینئر غیر محفوظ ایم ٹی این پروگرام کی ریٹنگ (P)Caa2 سے بڑھا کر (P)Caa1 کر دی گئی۔ پاکستان کی حکومت اور پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ دونوں کی آؤٹ لک بھی ’مثبت‘ (Positive) سے بدل کر ’مستحکم‘ کر دی گئی۔
ادارے کے مطابق، یہ اپ گریڈنگ پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی بیرونی مالی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے، جو آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے تحت اصلاحات پر پیش رفت سے ممکن ہوئی۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید بہتری کی توقع ہے، تاہم پاکستان بروقت بیرونی مالی معاونت پر انحصار کرتا رہے گا۔
مالیاتی محاذ پر، حکومت کا ریونیو بیس بڑھ رہا ہے جس سے کمزور مالی پوزیشن میں بہتری آ رہی ہے۔ قرض کی ادائیگی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، مگر یہ اب بھی ریٹنگ شدہ خودمختار ممالک میں سب سے کمزور سطح پر ہے۔ موڈیز نے کہا کہ اس ریٹنگ میں پاکستان کی کمزور حکمرانی اور بلند سیاسی غیر یقینی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
خطرات اور امکانات میں توازن
’مستحکم‘ آؤٹ لک اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں خطرات اور امکانات متوازن ہیں۔ اگر قرض کی سروسنگ کے بوجھ اور بیرونی کھاتوں میں بہتری توقع سے زیادہ تیز رفتار ہوئی تو ریٹنگ مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ تاہم اصلاحات میں تاخیر کی صورت میں بروقت سرکاری فنڈنگ کا حصول خطرے میں پڑ سکتا ہے، جو دوبارہ بیرونی پوزیشن کو کمزور کر دے گا۔
یہ اپ گریڈنگ پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کے غیر ملکی کرنسی کے سینیئر غیر محفوظ قرضوں کی ریٹنگ پر بھی لاگو ہوتی ہے، کیونکہ موڈیز کے مطابق اس کے مالیاتی واجبات براہِ راست حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہیں۔
ملکی سیلنگ میں اضافہ
موڈیز نے پاکستان کی مقامی کرنسی کی کنٹری سیلنگ B3 سے بڑھا کر B2 کر دی اور غیر ملکی کرنسی کی سیلنگ Caa2 سے بڑھا کر Caa1 کر دی۔
ادارے کے مطابق، مقامی کرنسی کی سیلنگ اور خودمختار ریٹنگ میں دو درجے کا فرق حکومت کے معیشت میں بڑے کردار، کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے، اور بلند سیاسی و بیرونی خطرات کی وجہ سے ہے۔ غیر ملکی کرنسی کی سیلنگ اور مقامی کرنسی کی سیلنگ میں دو درجے کا فرق سرمایہ کھاتوں کی نامکمل تبدیلی، نسبتاً کمزور پالیسی مؤثریت، اور ممکنہ ٹرانسفر یا کنورٹیبلٹی پابندیوں کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔
موڈیز نے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ پوزیشن میں بہتری کا سلسلہ پالیسی تسلسل، بروقت بیرونی فنڈنگ، اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے مشروط ہے۔