پی ڈی ایم اے کا پنجاب کے دریاؤں میں ممکنہ سیلاب کا انتباہ، بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کا خدشہ

لاہور؛ پنجاب پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ ملک کے بالائی علاقوں میں جاری بارشوں اور آئندہ دنوں میں بھارت کی جانب سے ممکنہ طور پر پانی چھوڑنے کے باعث دریاؤں میں سیلاب آ سکتا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے کہا، ’’خدشہ ہے کہ بھارت آئندہ دو دنوں میں دریائے ستلج میں پانی چھوڑ سکتا ہے۔ بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔‘‘ ترجمان کے مطابق بھارت میں بھاکڑا، پونگ اور تھیئن ڈیم بالترتیب 61 فیصد، 76 فیصد اور 64 فیصد گنجائش تک بھر چکے ہیں۔

اتھارٹی پہلے ہی دریائے چناب میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا انتباہ جاری کر چکی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ دریاؤں اور ڈیموں کی صورتحال کو چوبیس گھنٹے مانیٹر کیا جا رہا ہے اور دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

یہ انتباہ ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے جب پی ڈی ایم اے نے صوبے میں 13 اگست سے شروع ہونے والے مون سون کے ساتویں اسپیل کے پیش نظر سیلابی الرٹ جاری کیا تھا۔ اس نئے اسپیل کے دوران دریائے ستلج، راوی، چناب اور جہلم سمیت ان سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

موجودہ مون سون سیزن نے پاکستان بھر میں تباہی مچا دی ہے، جہاں شہری علاقوں میں پانی بھرنے، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 300 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، درجنوں لاپتہ ہیں، جبکہ انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

گلگت بلتستان، جو ایک اہم سیاحتی علاقہ ہے، بھی گزشتہ ماہ شدید بارشوں سے پیدا ہونے والے فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آیا، جس میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔ وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کے مطابق ان بارشوں نے گھروں، سڑکوں اور آبی گزرگاہوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

اپنا تبصرہ لکھیں