اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں ہوشربا اضافہ،6 ماہ کے پیسے ایک ساتھ وصول کر لیئے۔

اسلام آباد (وے آوٹ نیوز)ملک میں معاشی دباؤ اور کفایت شعاری کے دعوؤں کے باوجود پارلیمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کی پرتعیش مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ خبروں کی زینت بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے گزشتہ 6 ماہ کی تنخواہ یکمشت وصول کر لی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے بھی یکساں طور پر 6 ماہ کی تنخواہیں ایک ساتھ حاصل کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان چاروں اعلیٰ عہدیداروں نے 6 ماہ کی تنخواہوں کی مد میں تقریباً 85،85 لاکھ روپے وصول کیے۔
ماہانہ بنیاد پر تنخواہ تقریباً 19 لاکھ 50 ہزار روپے بنتی ہے جو مجموعی طور پر پارلیمنٹ کے بجٹ سے ادا کی گئی۔
مزید یہ کہ یہ رقم براہ راست اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ اس منتقلی کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسپیکر قومی اسمبلی پر کھل کر تنقید بھی کی تھی۔سپیکر، قومی اسمبلی نے ایوان جبکہ چیئرمین سینیٹ نے میڈیا کے سامنے تنخواہوں میں اضافے پر لاعلمی کا اظہار کیا۔ ایاز صادق نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ تنخواہ میں اضافہ جس نے کیا وہ فیصلہ واپس لے سکتے ہیں تاہم انہوں نے بھی اس سارے معاملے سے لاتعلقی ظاہر کی۔تنقید کے بعد دونوں آئینی اداروں کے سربراہوں نے اپنا معاملہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا ہے تاہم سپیکر ایاز صادق نے وزیراعظم کو خط لکھ کر اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ دوسری جانب زرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ
اب دونوں ایوانوں کے نگہبان یہ اضافی رقوم وصول کر چکے ہیں۔ عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والی قیادت کی جانب سے لاکھوں روپے کی تنخواہیں ایک ساتھ وصول کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کیا یہ طرزِ عمل موجودہ معاشی صورتحال میں قابلِ قبول ہے؟ یہ ایک اہم قومی بحث بن چکی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں