لاہور (ایم این این): عالمی تیل بحران کے تناظر میں حکومت پاکستان توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانے کے لیے مارکیٹوں کے اوقات کار کم کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر منحصر ہے، جبکہ رات گئے تک کھلی رہنے والی مارکیٹیں اس بوجھ میں اضافہ کرتی ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں اکثر بازار دوپہر کے بعد کھلتے ہیں اور رات دیر تک کھلے رہتے ہیں، جس دوران استعمال ہونے والی بجلی مہنگے فرنس آئل سے پیدا کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق رات کے وقت بجلی کی فی یونٹ لاگت 60 سے 80 روپے تک پہنچ جاتی ہے، جو موجودہ حالات میں ایک بڑا بوجھ ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ صوبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تاجر تنظیموں سے مشاورت کر کے ایک ہفتے کے اندر لائحہ عمل پیش کریں تاکہ مارکیٹیں جلد بند کرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاپان، امریکہ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکیہ جیسے ممالک میں کاروباری سرگرمیاں شام تک محدود رہتی ہیں، جو توانائی کے مؤثر استعمال میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر ضروری اضافے کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے ٹرانسپورٹرز سے بات کریں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کارپولنگ اپنائیں اور غیر ضروری بجلی کے استعمال سے گریز کریں۔
یہ بیان وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت مارکیٹ اوقات سمیت توانائی بچت کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ موجودہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ تمام ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بروقت فیصلے کر کے ایندھن کی قلت سے بچاؤ یقینی بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے حالیہ ہفتوں میں 129 ارب روپے کا بوجھ برداشت کیا اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی بھی دی۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ ایندھن اور بجلی کے استعمال میں احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اسے قومی ذمہ داری سمجھیں۔