اسلام آباد (ایم این این) – وفاقی حکومت نے بدھ کے روز صبح ساڑھے گیارہ بجے علاقائی صورتحال پر اِن کیمرہ پارلیمانی بریفنگ طلب کر لی ہے۔ یہ اعلان قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پارلیمانی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو مدعو کیا ہے تاکہ موجودہ صورتحال میں آئندہ کا لائحہ عمل مشترکہ طور پر طے کیا جا سکے۔
وزیر قانون نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور برادر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کے پیش نظر بعض حساس امور کو کھلے عام زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، تاہم دیگر ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ بھی دیرینہ تعلقات اور دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
انہوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپیل کی کہ قومی اور علاقائی سلامتی کے پیش نظر مل بیٹھ کر فیصلے کیے جائیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ پارلیمانی رہنماؤں کو ذاتی طور پر دعوت دے رہے ہیں اور اجلاس میں دی جانے والی تجاویز کو حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے گا۔
اس سے قبل نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی رہنماؤں کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی جس میں افغانستان کی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور تہران نے خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے پورے خطے کو نئی عسکری کشمکش کی طرف دھکیل دیا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے ساتھ بھی کشیدگی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد پاکستان نے آپریشن غضب لِلحق شروع کرتے ہوئے سرحد پار اہداف کو نشانہ بنایا۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے بھی اسلام آباد میں وزیر اعظم سے ملاقات کر کے ملکی سیاسی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
پی ٹی آئی کا بائیکاٹ کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ جب تک بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی وہ کسی بھی حکومتی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔
پارٹی کے سیاسی کمیٹی اجلاس کے بعد جاری بیان میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
بیان میں ایران اور خلیجی ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں جبکہ امریکا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر جارحانہ اقدامات بند کریں۔
پی ٹی آئی نے افغانستان کے ساتھ موجودہ کشیدہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو عدالتی احکامات کے باوجود رسائی نہیں دی جا رہی۔
پارٹی نے واضح کیا کہ جب تک عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا اور بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کا بندوبست نہیں کیا جاتا، وہ کسی بھی حکومتی اجلاس میں شریک نہیں ہوگی۔