پیرس (ایم این این): فرانس میں دو عدم اعتماد کی تحاریک ناکام ہونے کے بعد 2026 کا بجٹ منظور کر لیا گیا، جس سے وزیر اعظم سباستیان لیکورنو کی کمزور اقلیتی حکومت کو وقتی سیاسی استحکام حاصل ہو گیا ہے۔
یہ بجٹ پیر کے روز منظور ہوا، جس کے ساتھ ہی سرکاری اخراجات پر چار ماہ سے جاری سیاسی تعطل ختم ہو گیا۔ بجٹ میں مالی خسارہ کم کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
صدر ایمانوئل میکرون کے 2024 کے اچانک انتخابات کے بعد، جن کے نتیجے میں معلق پارلیمان وجود میں آئی، گزشتہ تقریباً دو برس سے بجٹ مذاکرات فرانسیسی سیاست پر حاوی رہے ہیں، جبکہ اسی دوران سرکاری مالیات پر دباؤ بھی بڑھتا گیا۔
اس طویل سیاسی بحران کے باعث دو وزرائے اعظم کو عہدہ چھوڑنا پڑا، قرضہ مارکیٹس میں بے چینی پھیلی اور یورپی شراکت داروں میں تشویش پیدا ہوئی۔ تاہم لیکورنو نے سوشلسٹ اراکین کی حمایت حاصل کر کے بجٹ کی منظوری ممکن بنائی، جس کے لیے محدود مگر مہنگی رعایتیں دی گئیں۔
فرانس پر یورپی یونین کی جانب سے قرضے کو مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے کم کرنے کا دباؤ ہے، کیونکہ یہ شرح یونین میں یونان اور اٹلی کے بعد سب سے زیادہ ہے اور 60 فیصد کی مقررہ حد سے تقریباً دوگنی ہے۔
نئے بجٹ کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ 2026 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک لایا جائے، جو 2025 میں 5.4 فیصد متوقع ہے، جبکہ پہلے یہ ہدف 4.7 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔
بجٹ میں بعض کاروباری اداروں پر ٹیکس میں اضافہ شامل ہے، جس سے 2026 میں تقریباً 7.3 ارب یورو کی آمدنی متوقع ہے، تاہم انتہائی امیر طبقے پر دولت ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور نہ ہو سکی۔
دفاعی بجٹ میں 6.5 ارب یورو کا اضافہ کیا گیا ہے، جسے وزیر اعظم نے بجٹ کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔ اس کے بدلے سوشلسٹ جماعت نے طلبہ کے لیے ایک یورو کھانے کی سہولت اور کم آمدنی والے مزدوروں کے لیے اضافی مالی امداد جیسے اقدامات منظور کروائے۔