تشدد کو آزادی کی تحریک قرار دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خواجہ آصف

اسلام آباد (ایم این این): وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کے روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان کی واضح اور حتمی پالیسی ہے کہ کسی کو بھی تشدد کو آزادی کی تحریک یا قومی جدوجہد کا رنگ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تشدد کو جواز دینے یا انسانی حقوق کے نام پر پیش کرنے کی کوششیں سراسر جھوٹ ہیں اور ان کا مقصد صرف مجرمانہ سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

خواجہ آصف نے حالیہ بڑے دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 150 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماضی میں کئی بار امن سبوتاژ ہوا، تاہم طویل عرصوں تک امن اور ترقی بھی رہی۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بدامنی کا ایک سیاسی پہلو موجود تھا اور کچھ شکایات بھی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نام نہاد تحریک پر اسمگلرز اور جرائم پیشہ عناصر قابض ہو گئے، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ بھارت کے حمایت یافتہ عناصر بلوچستان میں پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں اور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد قیادت کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر سامان اور تیل اسمگل ہو کر دوبارہ پاکستان کی منڈیوں میں فروخت ہوتا رہا۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ان عناصر سے مذاکرات ممکن نہیں کیونکہ ان کی کوئی سیاسی یا قومی شناخت باقی نہیں رہی اور یہ ایک خالصتاً مجرمانہ نیٹ ورک بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے کی وجہ سے سیکیورٹی یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دو دن کے دوران 177 دہشت گرد ہلاک، 17 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 33 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت گوادر میں تھی۔ انہوں نے لاپتہ افراد اور محرومی کے بیانیے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانیہ دہشت گردوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ دہشت گرد عناصر ایک پوری نسل کو گمراہ کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ بلوچستان کا کوئی علاقہ دہشت گردوں کے کنٹرول میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والوں سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی اور ریاست پوری طاقت سے جواب دے گی۔

آخر میں خواجہ آصف نے ایوان اور قوم سے اپیل کی کہ سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف تقاریر اور قراردادوں سے نہیں بلکہ عملی کردار سے جیتی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں