اسلام آباد (ایم این این): سینیٹ نے پیر کے روز بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعات کی شفاف، تیز اور حتمی تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ملکی و غیر ملکی سرپرستوں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ انٹیلی جنس تعاون، سرحدی سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں، خصوصاً بلوچستان میں۔
سینیٹ نے حملوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرات اور قربانیوں کو سراہا۔ قرارداد میں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست کی یکجہتی اور عوام کی قوت ہر قسم کی انتہا پسندی اور تشدد پر غالب آئے گی۔
قرارداد میں بلوچستان میں امن، ترقی اور سیاسی شمولیت کے لیے سینیٹ کے عزم کی بھی توثیق کی گئی اور کہا گیا کہ پائیدار سیکیورٹی کا حصول سماجی و معاشی ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور آئینی حقوق کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر درجن بھر شہروں اور قصبات میں کالعدم تنظیموں کے مربوط حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 92 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کے حمایت یافتہ فتنتہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں امن خراب کرنے کی کوشش کی۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں 15 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 18 شہری جاں بحق ہوئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملوں کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا۔ انہوں نے ہفتے کی رات وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ عام دہشت گرد نہیں تھے بلکہ ان حملوں کی منصوبہ بندی بیرونی سرپرستی میں کی گئی، اور ملوث تمام عناصر اور ان کے آقاؤں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔