ویب ڈیسک (ایم این این): ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جمعے کے روز ترکی کے شہر استنبول میں دوبارہ شروع ہوں گے، ایرانی اور امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا۔ ایک علاقائی سفارت کار کے مطابق سعودی عرب، مصر اور دیگر ممالک کے نمائندے بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کی قیادت کریں گے، جن کا مقصد تعطل کا شکار سفارتی عمل کو بحال کرنا اور خطے میں ممکنہ جنگ کے خدشات کو کم کرنا ہے۔ ترکی اور دیگر علاقائی اتحادی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔
سفارت کار کے مطابق قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور کچھ دیگر ممالک استنبول اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران کے قریب امریکی بحری موجودگی میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ماہ حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا، جسے 1979 کے انقلاب کے بعد بدترین داخلی بدامنی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری رعایتوں کا مطالبہ کرتے ہوئے مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی ہے، جبکہ ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی کے مطابق بات چیت کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق امریکا نے یورینیم افزودگی صفر کرنے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنے اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے ایران اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دے کر مسترد کرتا آیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران مذاکرات کے تمام پہلوؤں پر غور کر رہا ہے اور غیر منصفانہ پابندیوں کے فوری خاتمے کو ترجیح دیتا ہے۔ ترکی کی حکمران جماعت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ دونوں فریق دوبارہ سفارت کاری پر متفق ہو گئے ہیں، جس سے ممکنہ امریکی حملوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران یورینیم افزودگی پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، جس میں 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی منتقلی اور مشترکہ انتظام کے تحت صفر افزودگی شامل ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے کسی پیشگی شرط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایران نے مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنے قریب سے امریکی فوجی اثاثے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ادھر امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اسرائیل کے دورے کی بھی توقع ہے، جہاں وہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فوجی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال امریکی حملوں کے بعد یورینیم افزودگی روک دی گئی تھی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر میں بعض جوہری تنصیبات پر محدود مرمت کے آثار نظر آتے ہیں۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ افزودگی کا عمل جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر پرامن اور شہری مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔