اسلام آباد:
سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی، جبکہ ایم کیو ایم نے صوبائی حکومت کے خلاف وفاقی حکومت سے رجوع کر لیا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے ایم کیوایم کے وفاقی وزراء اور اہم رہنماوں کی سیکیورٹی بھی واپس لینے پر متحدہ نے چیخ وپکار مچا دی ہے۔ زرائع کے مطابق کراچی کے علاقے میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف شہریوں کو سوگ میں مبتلا کیا بلکہ سندھ کی سیاست میں ایک نیا تنازعہ بھی کھڑا کر دیا ہے۔
سانحے کے بعد ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
ایم کیو ایم نے صوبائی حکومت پر شہری معاملات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے خلاف باضابطہ شکایت وفاق کو بھجوا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے، جس میں کراچی کی صورتحال، انتظامی ناکامیوں اور امن و امان کے مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔کراچی کے معاملے پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی تذکرہ کیا گیا۔ ایم کیو ایم نے وفاق کو لکھے گئے خط میں کراچی کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ دہراتے ہوئے شہر قائد میں آئین کے آرٹیکل 148، 149 فوری نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ سندھ کی حکمرانی اب پیپلزپارٹی کے بس کی بات نہیں ہے۔ فوری طور پر صوبائی حکومت ختم کی جائے۔
ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کرنے اور صوبے کی حکمران جماعت کے رویئے اور پالیسیوں کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔