اسلام آباد:
عصرِ حاضر کی دنیا میں ترقی، رفتار اور کنیکٹیویٹی نے ہماری زندگیوں کو بظاہر آسان بنا دیا ہے، مگر اسی تیز رفتاری میں ایک بنیادی انسانی قدر خاموشی سے زوال کا شکار ہو رہی ہے: دوستی۔ یہ محض ایک سماجی رجحان نہیں بلکہ ایک گہرا ثقافتی اور تنظیمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے—ایسا مسئلہ جس کے اثرات فرد، اداروں اور معاشروں تک پھیل رہے ہیں۔ہارورڈ بزنس ریویو کے تجزیاتی مضمون میں
بھی ان اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق 1990 کے بعد سے امریکا میں اُن افراد کی تعداد چار گنا بڑھ چکی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ “میرے کوئی قریبی دوست نہیں”—یہ شرح اب 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اسی دوران وہ لوگ جن کے دس یا اس سے زیادہ قریبی دوست تھے، ان کی تعداد میں ایک تہائی کمی آ چکی ہے۔
یہ رجحان صرف مغرب تک محدود نہیں۔ بھارت کے شہری علاقوں میں بھی یہی تصویر سامنے آتی ہے: جان پہچان بڑھ رہی ہے، مگر سچی اور گہری دوستی کم ہوتی جا رہی ہے۔ہجوم میں تنہائی کبھی کیفے، کلب یا تقریبات اجنبیوں سے مکالمے کی جگہ ہوا کرتی تھیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ لوگ ہجوم میں بھی تنہا دکھائی دیتے ہیں۔ امریکا میں صرف پچھلے دو برسوں کے دوران اکیلے کھانا کھانے والوں کی تعداد میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے—یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں بلکہ سماجی تنہائی کا واضح اشارہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے باقاعدہ دوستی پر ایک کورس متعارف کرایا ہے—جو اس بات کا اعتراف ہے کہ تعلقات اب فطری طور پر نہیں، بلکہ شعوری کوشش سے قائم رکھنے پڑتے ہیں۔صحت، کارکردگی اور قیادت پر اثرات تحقیقی شواہد بتاتے ہیں کہ تنہائی صرف ذہنی دباؤ تک محدود نہیں رہتی۔ اس سے دل کی بیماری، ڈیمنشیا اور قبل از وقت موت کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ بعض تحقیقات کے مطابق تنہائی کے اثرات روزانہ 15 سگریٹ پینے جتنے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ہارورڈ کی 80 سالہ طویل تحقیق ایک سادہ مگر طاقتور نتیجے پر پہنچی ہے۔ حقیقی خوشی اور دیرپا صحت کی کنجی قریبی تعلقات ہیں۔

عثمان خان
کاروباری دنیا کے لیے اس کا مطلب بھی واضح ہے۔ تنہا افراد نہ صرف کم مطمئن ہوتے ہیں بلکہ ان کی کارکردگی، تخلیقی صلاحیت اور ٹیم کے ساتھ وابستگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ قیادت، دراصل، تعلقات کا ہی دوسرا نام ہے۔دوستی عیش نہیں، ضرورت ہے۔
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دوستی کے لیے وقت نکالنا ایک عیش ہے—جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اب ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ تنہائی ایک خاموش لت کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ اگر ہم نے دوستی کی قدر نہ کی تو نہ صرف نئی دوستیاں پنپنے سے رہ جائیں گی بلکہ پرانے رشتے بھی آہستہ آہستہ ٹوٹ جائیں گے۔
آگے کا راستہ محض جان پہچان پر اکتفا نہ کریں؛ قریبی تعلقات کو ترجیح دیں۔
دوستی کو پروان چڑھانے کے لیے وقت نکالیں، درگزر کریں، اور مشترکہ یادیں بنائیں۔
یاد رکھیں: دولت کمائی جا سکتی ہے، حیثیت بدل سکتی ہے—مگر سچا دوست وہی ہے جو ہر حال میں ساتھ دے۔
دوستی ایک ایسی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ سچے دوستوں کے ساتھ نہ صرف زندگی زیادہ خوبصورت ہو جاتی ہے بلکہ کام، صحت اور خوشی—سب بہتر ہو جاتے ہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی مصروف زندگیوں میں ایک شعوری وقفہ ڈالیں اور اُن رشتوں میں سرمایہ کاری کریں جو واقعی ہمیں انسان بناتے ہیں .