اسلام آباد:
سابق چیئرمین سینیٹ اور رکن بلوچستان اسمبلی صادق سنجرانی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک اہم خط ارسال کر دیا ہے — وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق صادق سنجرانی نے خط میں سابق ڈی پی او چاغی عثمان سادوزئی کے خلاف مبینہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کی سرپرستی سے متعلق سنگین الزامات سے آگاہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق چیئرمین سینیٹ نے اس خط کی کاپی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی ارسال کی ہے۔
خط کے متن کے مطابق ایس پی عثمان سادوزئی صادق سنجرانی کے حلقے چاغی میں ڈی پی او کے طور پر تعینات رہے، جہاں ان پر اسمگلنگ اور غیرقانونی کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عثمان سادوزئی مبینہ طور پر اسمگلنگ نیٹ ورکس کی سہولت کاری، غیرقانونی سرگرمیوں سے مالی فوائد کے حصول اور کرپٹ اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔
صادق سنجرانی کے مطابق عثمان سادوزئی نے اے ڈی سی آر کے عہدے پر اپنی اہلیہ کی تعیناتی کرائی، جو کہ واضح طور پر مفادات کے ٹکراؤ کے زمرے میں آتا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ چاغی افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی علاقے ہونے کے باعث ایک حساس ضلع ہے، جہاں اس نوعیت کی سرگرمیاں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

متن کے مطابق عثمان سادوزئی خود کو بااثر خاندانی روابط کی بنیاد پر ناقابلِ گرفت ظاہر کرتے رہے اور عسکری و سول اداروں سے تعلقات کا حوالہ دے کر لوگوں کو ہراساں کرتے رہے۔
خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ تعیناتی کے دوران عثمان سادوزئی کے خلاف بدعنوان سرگرمیوں کے الزامات عام رہے اور انہوں نے اسمگلنگ نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کی۔
سابق چیئرمین سینیٹ کے مطابق ایس پی عثمان سادوزئی نے سہولت کاری کے بدلے غیرقانونی مالی فوائد بھی حاصل کیے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عثمان سادوزئی کھلے عام دعویٰ کرتے تھے کہ وہ سول اور عسکری حلقوں میں مضبوط خاندانی روابط کے باعث کسی کارروائی سے بالاتر ہیں۔
صادق سنجرانی نے خط میں واضح کیا ہے کہ یہ طرزِ عمل سرکاری سروس کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ عثمان سادوزئی کراچی تعیناتی سے قبل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ کراچی میں غیرقانونی کمائی کے زیادہ مواقع میسر ہیں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عثمان سادوزئی کو آئندہ کسی حساس عہدے یا علاقے میں تعینات نہ کیا جائے اور ان کے اثاثوں اور جائیداد میں غیر معمولی اضافے کی مکمل چھان بین کی جائے۔
صادق سنجرانی کے مطابق عثمان سادوزئی کا طرزِ عمل پولیس سروس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث افسران ریاست کے لیے بوجھ اور عوام میں بددلی کا سبب بنتے ہیں۔