11 اہداف پورے نہ کرنے پر پاکستان کا آئی ایم ایف سے نئے ٹارگٹس پر اتفاق

اسلام آباد (MNN) – آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 11 کارکردگی اہداف حاصل نہ کرنے کے بعد حکومت نے 11 نئے اہداف مان لیے ہیں جن میں اضافی ٹیکس اقدامات اور آئندہ ماہ سے اخراجات میں کٹوتیاں شامل ہیں۔ اس کا مقصد بڑھتے ہوئے ریونیو خسارے کو پورا کرنا اور 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کو درست سمت میں رکھنا ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ دستاویزات کے مطابق نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس اور دو پیشگی شرائط مکمل ہونے کے بعد دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے ہوا، جس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ نے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی۔

حکومت نے بتایا کہ کیپٹو پاور لیوی کی کمزور کارکردگی کے باعث 104 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا ہے، جسے پاور سبسڈی میں کمی کے ذریعے پورا کیا جائے گا کیونکہ سرکلر ڈیٹ میں اضافہ بجٹ سے کم رہا ہے۔

ایف بی آر پہلے ہی مالی سال 26 کی پہلی پانچ ماہ میں 430 ارب روپے کی کمی کا سامنا کر چکا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ اگر دوسری سہ ماہی میں بھی ایف بی آر کی کارکردگی کمزور رہی تو کھاد اور زرعی ادویات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا، مہنگی میٹھی مصنوعات پر نئی ایکسائز ڈیوٹی لگے گی اور آٹھویں جی ایس ٹی شیڈول کی اشیا کو عام جی ایس ٹی نظام میں منتقل کیا جائے گا، جس کا مطلب 18 فیصد ٹیکس ہے۔

انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ نیشنل ٹیریف پالیسی سے اگر کوئی ریونیو نقصان ہوا تو اسی کے برابر اخراجات آخری سہ ماہی تک مؤخر کر دیے جائیں گے۔

پاکستان نے پہلے سے رہ جانے والے اہداف پر استثنیٰ کی درخواست بھی کر دی ہے۔ دستاویزات بتاتی ہیں کہ بدعنوانی اور گورننس سے متعلق رپورٹ کی اشاعت 1.2 ارب ڈالر کی تازہ قسط کی پیشگی شرط تھی جب کہ ایک اور شرط کمزور بینک کی ریکپیٹلائزیشن سے متعلق تھی۔

حکومت نے ایک اسٹرکچرل بینچ مارک، پانچ کارکردگی اشاریوں اور چار اشاریاتی اہداف بھی پورے نہیں کیے، تاہم کچھ بعد میں مکمل کیے گئے۔

جون کے آخر تک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اخراجات کا ہدف پورا نہ کرنے اور دسمبر کے تین اہداف میں ترمیم کیلئے استثنیٰ مانگا گیا ہے، جن میں پرائمری خسارے کی حد، نئے ٹیکس ریٹرنز کی تعداد اور بی آئی ایس پی کے کیش ٹرانسفر شامل ہیں۔

مارچ 2026 تک ایف بی آر کے تین اہم شعبوں میں مکمل اصلاحات کیلئے تمام اقدامات مکمل کرنے کا روڈ میپ طے پایا ہے، جس میں قانون سازی، اسٹاف تعیناتی اور ابتدائی رپورٹنگ شامل ہے۔

جون 2026 تک خصوصی اقتصادی زونز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کیلئے مراعات کے اخراجات اور مؤثریت کا جائزہ جاری کیا جائے گا، جبکہ تمام مراعات 2035 تک ختم کردی جائیں گی۔

ٹیکس پالیسی آفس قائم کر دیا گیا ہے اور دسمبر 2026 تک ٹیکس اصلاحات کی درمیانی مدت حکمت عملی شائع کی جائے گی۔ صوبے زرعی آمدنی پر مکمل ٹیکس وصولی اور تقریباً تمام خدمات پر جی ایس ٹی کا نفاذ یقینی بنائیں گے۔

مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی رکاوٹوں کا جائزہ لے کر ستمبر 2026 تک ایکشن پلان جاری کیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک مئی 2026 تک ترسیلات زر کی لاگت کا جائزہ لے کر باضابطہ چینلز کو بہتر بنائے گا۔

فاریکس مارکیٹ کو مزید گہرا کرنے، انٹربینک ٹریڈنگ اور ایکسچینج ریٹ میں لچک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

بجلی کے شعبے میں حکومت نے 2026 کے اوائل میں تین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے پہلے مرحلے کی بولی مکمل کرنے اور حیسکو و سیپکو کی نجکاری کیلئے دسمبر 2026 تک تمام تقاضے پورے کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

دسمبر 2026 تک اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثہ جات بھی حکومتی ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں گے۔

نیب اکتوبر 2026 تک 10 خطرناک ترین اداروں کیلئے انسداد بدعنوانی ایکشن پلان مکمل کرے گا۔

زیادہ تر سرکاری اداروں کے قوانین میں ترامیم اگست 2026 تک پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی، جبکہ سوورین ویلتھ فنڈ قانون میں بھی مارچ 2026 تک شفافیت اور احتساب کیلئے ترامیم کی جائیں گی، جس کے بعد ہی فنڈ فعال ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں