اشک آباد (ایم این این) – وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو ترکمانستان میں بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان حکام کو اپنے بین الاقوامی فرائض پورے کرنے اور اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کو روکنے کے لیے اقدامات پر آمادہ کریں۔
وزیراعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقاتوں میں بھی کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کے حل کے لیے کابل انتظامیہ کو عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، تاہم افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے پر منعقدہ عالمی فورم میں کہا کہ سرحدی کشیدگی کے بعد ہونے والا جنگ بندی معاہدہ اب بھی کمزور ہے، تاہم پاکستان امن کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے قطر، ترکیہ، سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کا جنگ بندی کرانے میں کردار پر شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار امن، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کو پاکستان کے مؤقف کی توثیق قرار دیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے غزہ کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا اور امید ظاہر کی کہ جاری کوششیں بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں بچانے اور مستقل جنگ بندی کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مالی شمولیت، خواتین کی معاشی شرکت اور ماحولیاتی بہتری کے اقدامات میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے، لیکن موسمیاتی آفات اور عالمی عدم مساوات ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہوں نے مشترکہ ذمہ داری، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اختتامی خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو نفرت اور تصادم سے نکل کر تعاون اور امن کی جانب بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رابطوں میں سرمایہ کاری قوموں کو جوڑنے اور خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
شہباز–اردوان ملاقات
صدر اردوان سے ملاقات میں وزیراعظم نے ترکیہ کے ساتھ سیاسی، معاشی، توانائی، دفاع اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک-ترکیہ تعلقات میں حالیہ پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے بجلی کے ترسیلی اداروں کی نجکاری میں ترکیہ کے تجربے سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
شہباز–پزشکیان ملاقات
ایرانی صدر سے ملاقات میں دونوں ممالک نے تجارت بڑھانے، بارڈر مارکیٹس فعال کرنے، سکیورٹی تعاون بڑھانے اور ریل رابطے کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر افغانستان سے پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
دیگر سرگرمیاں
وزیراعظم نے روس، تاجکستان اور کرغزستان کے صدور سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں۔
ادھر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران، کرغزستان، ترکیہ، عمان، ازبکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں جن میں علاقے کی صورتحال، تجارت اور تعاون پر گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے ترکمانستان کے صدر سر دار بردی محمدوف سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے اور زمینی و سمندری رابطوں میں اضافہ کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے ترکمان قیادت کو آئندہ سال پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔