مردان؛ خیبرپختونخوا میں ریونیو ٹیکس آفس پشاور نے خفیہ اطلاعات پر مردان میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ مار کر اربوں روپے کے ٹیکس چور نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
چھاپے کے دوران ایم/ایس یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کی غیر رجسٹرڈ مشینری برآمد ہوئی—ایسی مشینری جو سالوں سے ریگولیٹری نظام کو دھوکہ دیتے ہوئے ملک بھر میں جعلی سگریٹ فروخت کر رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق ضبط شدہ مشینری کی یومیہ پیداوار 6 سے 7 ہزار کلوگرام تک تھی…
اور اس پیداواری صلاحیت سے روزانہ تقریباً 45 کروڑ روپے کی غیر قانونی کمائی ہو رہی تھی۔
یعنی حکومت کو سالانہ اربوں روپے کے ٹیکس کا نقصان ہوا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ مشینری اندرونِ ملک اور آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی سگریٹ کی ترسیل کے لیے استعمال کی جا رہی تھی، اور مارکیٹ میں جعلی برانڈز سپلائی کیے جا رہے تھے۔
مزید یہ کہ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ایف بی آر نے جعلی سگریٹ کارٹیل پکڑ کر قومی خزانے کو بڑے نقصان سے بچایا تھا—مگر خیبرپختونخوا میں گورننس کی مسلسل ناکامی نے صوبے کو غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا ہے۔
ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور جعلی سگریٹ مافیا—سب کچھ ایک مضبوط نیٹ ورک کی طرح کام کر رہا ہے،
اور ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھ چکا ہے کہ اس کالے دھندے کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔