اسلام آباد :
پاکستان میں سائبر کرائم میں اضافہ … شکایات کے انبار لگ گئے۔ اور حکومت کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج! الیکٹرانک جرائم پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے قوانین کارگر ثابت ہو رہے ہیں یا صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے؟ وفاقی حکومت کی رپورٹ تشویشناک حقائق سامنے لے آئی ہے۔
ڈیجیٹل دور… مگر خطرات بھی ڈیجیٹل! پاکستان میں سائبر کرائمز کی بڑھتی شرح نے حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے۔
وفاقی حکومت کی تازہ رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک جرائم پر کنٹرول اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ملک بھر میں آنے والی شکایات کی بھرمار نے این سی سی آئی اے یعنی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ادارے میں زیر التواء شکایات کا بیک لاگ 80 ہزار سے تجاوز کر گیا ہے۔

اعداد و شمار ہوشربا جو بتاتے ہیں کہ سال 2025 میں 1 لاکھ 12 ہزار 663 شکایات درج ہوئیں، جب کہ 2024 میں یہ تعداد 1 لاکھ 8 ہزار 989 تھی۔
یعنی شکایات میں ہر گزرتے سال اضافہ ہو رہا ہے، اور کیسز کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال 26 ہزار 36 شکایات کی انکوائری کی گئی، جبکہ 1955 مقدمات درج ہوئے۔
اسی دوران 2445 ملزمان گرفتار ہوئے… لیکن سزاؤں کی شرح توجہ طلب ہے—صرف 32 مجرموں کو سزا ملی جبکہ 122 بری ہو گئے۔
شکایات کا بڑھتا دباؤ اور عملدرآمد کی کم رفتار سے سائبر قوانین کا اثر محدود ہو کر رہ جاتا ہے، اسی
صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے این سی سی آئی نے اہم فیصلے کر لیے ہیں۔
ملک بھر میں سائبر کرائم سینٹرز کی تعداد 15 سے بڑھا کر 64 کر دی گئی ہے… تاکہ شکایات کے بڑھتے بوجھ کو سنبھالا جا سکے۔
ادارے میں انویسٹی گیٹرز کی کمی پوری کرنے کے لیے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے وزارتِ داخلہ نئی بھرتیوں کے لیے وزیراعظم سے منظوری لے گی، جس کے بعد تفتیشی عمل مزید بہتر بنانے کی امید کی جا رہی ہے۔
ڈیجیٹل فراڈ، ہیکنگ، ہراسمنٹ اور آن لائن جرائم کے بڑھتے واقعات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتی اقدامات سائبر مجرموں کو روک پائیں گے یا بوجھ مزید بڑھتا رہے گا؟