مہاجرین کی سمگلنگ عالمی ایشو، غیر قانونی مائیگریشن سفارتی نہیں انسانی بحران قرار

اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مہاجرین کی سمگلنگ کے خاتمے سے متعلق دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ اس کانفرنس میں 30 سے زائد ممالک، عالمی اداروں، پالیسی سازوں اور مائیگریشن ماہرین نے شرکت کی۔تقریب کے انعقاد میں یو این او ڈی سی (UNODC)، آئی او ایم (IOM) اور یورپی یونین نے مرکزی کردار ادا کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ دنیا غیر قانونی مائیگریشن کو اب ایک سفارتی مسئلے کے بجائے انسانی بحران کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
غیر قانونی مائیگریشن ایک نیا خطرہ بن رہا ہے۔ عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ انسانی سمگلنگ ایک منظم اور منافع بخش نیٹ ورک بن چکی ہے۔ڈیجیٹل سہولیات، جعلی دستاویزات اور نئے روٹس نے اس غیر قانونی کاروبار کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔لاکھوں افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ایسے سمگلرز کے ہاتھوں کھلونا بن رہے ہیں
یورپ، خلیج اور جنوبی ایشیا اس بحران کی ہاٹ اسپاٹ مارکیٹس بن چکے ہیں۔ یورپی یونین کے نمائندے فلپ اولیور گراس نے کہا کہ غیر قانونی مائیگریشن کے خطرناک راستوں پر انسانی جانوں کو بچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
عالمی سطح پر ایک جیسی حکمتِ عملی ہی سمگلنگ کے خلاف اصل کامیابی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یورپی یونین “Global Alliance to Counter Migrant Smuggling” کے تحت مزید ممالک کو شامل کرے گی۔ اس سلسلے کی اگلی عالمی کانفرنس دسمبر میں برسلز میں منعقد ہوگی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ یونان کا سانحہ پوری دنیا کے لیے ایک وارننگ کال تھا۔
پاکستان نے انسانی سمگلنگ کے قوانین میں ترامیم کی ہیں اور نیشنل ایکشن پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ
Risk Analysis Unit قائم کیا جا چکا ہے۔ملکی اور سرحدی اداروں کے درمیان فوری کوآرڈی نیشن کا نظام فعال ہے۔
انسانی سمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کی جڑ سے خاتمے پر کام جاری ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنےمؤقف میں قانونی راستے کے زریعے ہی حل تجویز کئے ہیں۔
قائم مقام سیکرٹری خارجہ نبیل منیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ غیر قانونی راستوں کی بندش کے ساتھ قانونی مائیگریشن کے مواقع بڑھانا ناگزیر ہے۔
اسی مقصد کے لیے Global Compact for Migration پوری دنیا کے لیے ایک فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔
یو این او ڈی سی کے ڈاکٹر اولیور سٹولپ نے واضح کیا کہ انسانی سمگلنگ اب سرحدوں تک محدود جرم نہیں۔
ڈیجیٹل ایپس اور آن لائن کمیونیکیشن نے اسے ورچوئل نیٹ ورک بنا دیا ہے۔
منتشر کوششوں سے نتائج ممکن نہیں، ایک مربوط پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔
شرکاء نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ اب بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائی ہوگی
متاثرہ افراد کی بحالی، قانونی مائیگریشن اور تربیت بنیادی ترجیح ہوگی۔ جعلی دستاویزات اور آن لائن سرگرمیوں کے سدباب کے لیے نئے میکنزم تشکیل دیے جائیں گے
خطے میں تعاون کے نئے ماڈلز اب دوسرے ممالک کے لیے مثالی مثال ہوں گے۔
یہ کانفرنس صرف ایک سفارتی تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا موڑ ہے جہاں پاکستان عالمی اسٹیج پر ایک ذمہ دار ملک کے طور پر سامنے آیا
یورپی یونین نے واضح پیغام دیا کہ اکیلے نہیں — مل کر لڑنا ہوگا۔دنیا نے مشترکہ زبان میں ایک سوال اٹھایا کہ اگر انسانی سمگلنگ کے خلاف آج قدم نہیں اٹھایا گیا، تو کل کی دنیا کس کے ہاتھ میں ہوگی؟
بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب انسانی سمگلنگ روکی جائے گی خواہ روٹز بدل جائیں، لیکن ہدف نہیں تبدیل ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں