پاکستان کی وومن پارلیمنٹری کاکس نے برطانیہ کو پہلی خواتین کاکس بنانے پر آمادہ کر دیا
لندن: پاکستان کی ویمن پارلیمنٹری کاکس دنیا بھر میں خواتین کی سیاسی شمولیت کے لیے ایک مثال بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے پاکستان کی خواتین پارلیمنٹرینز کے تجربات سے متاثر ہو کر اپنی پہلی ویمنز کاکس تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پاکستان کی ویمن پارلیمنٹری کاکس کا تین روزہ دورہ برطانیہ انتہائی اہم ثابت ہوا۔ 25 سے 27 نومبر تک جاری رہنے والے اس دورے کی قیادت سیکریٹری کاکس ڈاکٹر شاہدہ رحمٰنی نے کی۔ دورے کا مقصد خواتین کی پارلیمانی قیادت، شراکتی طرزِ حکمرانی اور جماعتی ہم آہنگی کے حوالے سے تجربات کا تبادلہ تھا۔
پاکستانی وفد نے مختلف سیشنز میں اپنی مہارت، تحقیق اور پالیسی فریم ورک پر عملی مثالیں پیش کیں۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی اور نکہت شکیل خان نے پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کے مراحل پر بریفنگ دی۔
سابق وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کراس پارٹی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔
سیدہ نوشین افتخار نے نو منتخب خواتین اراکین کو درپیش چیلنجز بیان کیے۔
مسرت آصف خواجہ نے پارلیمانی معیار اور اخلاقی ضابطوں پر گفتگو کی۔
نعیمہ کشور خان نے شواہد کی بنیاد پر قانون سازی کے عملی ماڈل پیش کیے۔
مہتاب اکبر راشدی نے آن لائن ہراسگی اور خواتین سیاست دانوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے بڑھتے خطرات پر روشنی ڈالی۔
جبکہ طاہرہ اورنگزیب اور ڈاکٹر رحمانی نے جینڈر رسپانسیو بجٹنگ کے عملی پہلو بیان کیے۔

وفد میں نمایاں اراکین قومی اسمبلی اور ویمن کاکس کی سینئر رہنما شامل تھیں، جن میں طاہرہ اورنگزیب، مہتاب اکبر راشدی، نایمہ کشور خان، مسرت آصف خواجہ، سائرہ افضل تارڑ، نکہت شکیل خان، سیدہ نوشین افتخار اور قومی اسمبلی کی چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر منیل خان شامل تھیں۔
منیل خان نے برطانوی ارکان کو پاکستان کی ویمن پارلیمنٹری کاکس کے ارتقائی سفر سے آگاہ کیا، جو پہلی خاتون وزیراعظم کے دور سے شروع ہو کر 2008 میں پہلی خاتون اسپیکر کے دور میں باقاعدہ ادارہ بنی۔
برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے پاکستانی خواتین کی پارلیمانی کارکردگی کو نہ صرف قابلِ تقلید قرار دیا بلکہ افسوس کا اظہار کیا کہ کاش زیادہ برطانوی اراکین اس تاریخی لمحے کے گواہ بنتے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبادلے نے پہلی بار برطانوی پارلیمنٹ میں بھی خواتین کاکس کے قیام کی راہ ہموار کر دی ہے۔
دورے کا اختتام ایک مشترکہ اعلامیے پر ہوا، جس پر برطانوی اسپیشل انوائے برائے ویمن اینڈ گرلز بیرونس ہیریٹ ہارمن اور پاکستانی وفد نے دستخط کیے۔ اعلامیے میں دونوں ممالک نے خواتین کے حقوق کے فروغ، صنفی مساوات کے قوانین، تشدد کے خاتمے، سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت اور تعلیم و صحت تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کہا کہ
یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکھنے اور تجربات کا تبادلہ پارلیمانوں کو زیادہ مضبوط اور جامع بناتا ہے۔ خواتین کی قیادت جمہوری اداروں کا لازمی مستقبل ہے۔
یہ دورہ نہ صرف پاک-برطانیہ پارلیمانی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، بلکہ دنیا بھر میں خواتین کی سیاسی قیادت کو نئی سمت دینے کی طرف عملی قدم بھی۔
پاکستان کی خواتین پارلیمنٹرینز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وژن، ہمت اور ادارہ جاتی تسلسل کے ساتھ خواتین نہ صرف حصہ دار، بلکہ تبدیلی کی قائد بھی بن سکتی ہیں۔