اسلام آباد میں پاپولیشن کونسل کی تقریب میں پاکستان کے معاشی اور سماجی مستقبل پر دو اہم وفاقی وزراء کے واضح پیغامات سامنے آئے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے آبادی کے تیز رفتار اضافے اور موسمیاتی خطرات کو ملک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دے دیا۔
اسلام آباد میں ضلع وانرابلٹی انڈیکس کی لانچ تقریب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی کا انحصار آبادی کے دباؤ اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میکرو اکنامک استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، مگر انسانی ترقی کے بحران—جیسے بچوں میں نشوونما کی کمی، لرننگ پاورٹی اور کمزور ورک فورس—تیزی سے بڑھتی آبادی سے جڑے ہوئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ وزارت خزانہ پالیسیوں اور بجٹ میں آبادی اور موسمیاتی ترجیحات کو شامل کر رہی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں فنانس منسٹریز کا یہی کردار بڑھ رہا ہے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ وَلنر ایبلیٹی انڈیکس کو تین سالہ محققانہ محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ بلوچستان اور سندھ کے خطرناک حد تک متاثرہ اضلاع کی نشاندہی کرتی ہے۔وزیر خزانہ نے بستیوں کے پھیلاؤ، غیر رسمی آبادیوں اور شہروں میں غیر معیاری پانی و صفائی کے نظام کو بچوں میں اسٹنٹنگ کی بڑی وجہ قرار دیا… کہا کہ شہری کمزوریوں پر مزید تحقیق ناگزیر ہے۔

وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غیر مساوی رسائی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صاف پانی، معیاری تعلیم اور محفوظ رہائش کسی سہولت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں… اور یہی حقوق ہمارے کمزور طبقات کو سب سے کم مل رہے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ آبادی کے دباؤ سے صحت، وسائل، روزگار اور شہروں کی گنجائش متاثر ہو رہی ہے۔
گھروں کی قلت، عارضی شیلٹرز اور کمزور انفراسٹرکچر عوام کی زندگیوں کو مزید غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں—بلوچستان اور سابقہ فاٹا—میں رہنے والے تقریباً ایک کروڑ افراد شدید سماجی و موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان علاقوں میں دو ملین سے زائد بچے ناکافی اسکولوں، کمزور سہولیات اور غربت کے باعث غیر یقینی تعلیمی مستقبل رکھتے ہیں… جبکہ 65 فیصد آبادی کچے یا عارضی گھروں میں رہتی ہے۔