234واں ووٹ — سیاست کا بے رحم پیمانہ

تحریر عثمان خان
وقت، سیاست کا سب سے بے رحم پیمانہ ہے۔
یہ کسی کے لیے نہیں رکتا، نہ کسی کے اقتدار پر اعتبار کرتا ہے۔
کبھی یہی وقت تھا جب نواز شریف پاکستانی سیاست کے محور، اقتدار کے استعارے اور عوامی طاقت کے نشان تھے۔
ان کے ایک اشارے پر نظام لرز اٹھتا، اور ان کی خاموشی میں بھی معنی چھپے ہوتے۔
مگر وقت بدل گیا — اور سیاست کا ترازو اب کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔
ایک سال بعد، پھر وہی منظر دیکھنے کو ملا
تقریباً ایک سال اور بیس دن بعد نواز شریف دوبارہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔
پچھلی بار، 21 اکتوبر 2024 کو، 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر انہیں زبردستی ایوان میں لایا گیا تھا۔
پارٹی قیادت کو اپنی سب سے بڑی علامت کو محض گنتی پوری کرنے کے لیے پیش کرنا پڑا تھا۔
اب ایک سال بعد — 27ویں آئینی ترمیم کے وقت — وہی کہانی ایک نئے باب کے ساتھ دہرائی گئی۔
نواز شریف آئے، مسکرائے، ارکان سے ہاتھ ملایا،
وزیراعظم شہباز شریف اور وزرا نے پرتپاک استقبال کیا —
مگر حقیقت اپنی جگہ برقرار رہی:
نواز شریف اب نظام کے مرکز میں نہیں رہے۔
234واں ووٹ — واضح اکثریت کے ہوتے ہوئے صرف ایک عدد ہی تو ہے۔
وزیراعظم کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایوان میں موجود نہیں تھے.

مگر حکومت کے لیے کوئی خطرہ بھی نہیں تھا۔
224 درکار ووٹوں کے مقابلے میں حکومت کو دو تہائی سے زائد حمایت حاصل رہی۔
نواز شریف کا 234واں ووٹ آیا، مگر کسی سیاسی توازن کو نہ بدلا۔
ان کی موجودگی رسمی، کردار علامتی، اور اثر عددی رہا۔
ایک وقت تھا جب نواز شریف خود نظام تھے —
اور آج وہ صرف نظام کا ایک ووٹ بن کر رہ گئے ہیں۔

لمحاتی چمک لیکن دیرپا خالی پن بھی میاں صاحب کے چہرے سے عیاں ہوتا ہے۔ ایوان میں ان کی آمد نے وقتی چہل پہل ضرور پیدا کی،
مگر اس چمک کے پیچھے وہ خالی پن صاف دکھائی دیا جو کبھی طاقت کا سرچشمہ ہوا کرتا تھا۔
وہ نواز شریف جو کبھی ریاستی فیصلوں کے محور تھے،
آج ایک خاموش رکن کے طور پر آئے، ووٹ دیا، اور چپ چاپ لوٹ گئے۔
علامتی واپسی اور متنازع لمحے بھی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوئے۔
ان کی واپسی کے ساتھ ایک ناخوشگوار منظر بھی جڑا —
ان کے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ناروا سلوک۔
یوں ایک علامتی واپسی عزت کے بجائے بحث کا سبب بن گئی۔
وقت نے سیاست کے استاد کو خود سیاست کا سبق بنا دیا ہے۔۔
اب سیاست کا مرکز پنجاب ہے اسی لیے ایسا ثابت ہوا کہ نواز شریف نے وفاقی سیاست سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔
ان کی توجہ اب مکمل طور پر پنجاب کی طرف مبذول ہے —
جہاں ان کی صاحبزادی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
اور ان کی ٹیم — خصوصاً مریم اورنگزیب —پنجاب کی سیاست اور انتظامی ڈھانچے کو نئے انداز میں کامیابی سے ترتیب دے رہی ہیں۔جس کہ پورے ملک میں نہ صرف چرچے ہیں بلکہ مریم نواز کے عوامی فلاحی منصوبے زبان زدعام بھی رہتے ہیں۔ تاہم نواز شریف کے حوالے سے سیاسی سبق تو یہی بتاتا ہے کہ سیاست میں وقت سب سے بڑا استاد ہے —وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتا۔جو کل طاقت کا سرچشمہ تھے،آج گنتی کا حصہ ہیں۔نواز شریف کا 234واں ووٹ۔ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ
اقتدار کا کھیل ہمیشہ نیا مرکز تلاش کرتا ہے —
اور سیاست میں کوئی بھی ہمیشہ کے لیے “مرکز” نہیں رہتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں