کے پی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے صوبے میں فوجی آپریشن کی مخالفت کردی

پشاور – خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسی بھی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کرتی۔ پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “ہم کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ وفاقی حکومت سن لے، کے پی حکومت نہ آپریشن کی حامی ہے نہ بے گھری کی۔”

گنڈا پور نے وفاقی اداروں پر زور دیا کہ افغانستان سے مذاکرات کرکے دہشت گردی کا مسئلہ حل کریں۔ ان کا کہنا تھا: “ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم اس کے خلاف آواز بلند کریں گے۔”

وزیر اعلیٰ کا مؤقف حالیہ مہینوں میں بدلتا رہا ہے۔ جولائی میں انہوں نے کہا تھا کہ فوج صوبے میں کے پی حکومت کی درخواست پر موجود ہے اور انہیں مہمانوں کی طرح عزت دی جانی چاہیے۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے باجوڑ آپریشن میں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام اور افواج کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ حالیہ بیان میں انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ ڈرون حملے، مارٹر فائر اور فضائی کارروائیاں فوج کا آئینی اختیار ہیں اور صوبائی حکومت انہیں روک نہیں سکتی۔

پشاور کے جلسے میں گنڈا پور نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ عمران خان، ان کی اہلیہ اور عوام کو آئین کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کہا: “جس طرح عمران خان نے بھارت کے ساتھ مئی کے تنازع میں فوج کا ساتھ دیا، آپ پر بھی لازم ہے کہ عمران کے مسئلے کو حل کریں۔”

جلسے میں عمران خان کا ویڈیو پیغام بھی دکھایا گیا جبکہ اعظم سواتی سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ اعظم سواتی نے اعلان کیا کہ “ہم ظلم اور جبر کے خلاف ڈٹے رہیں گے اور عمران خان کی رہائی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

پی ٹی آئی کے مطابق ملک بھر سے کارکن پشاور پہنچے جبکہ پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے۔ 1,451 اہلکاروں اور اسنائپرز کو تعینات کیا گیا، جبکہ 508 ٹریفک اہلکار بھی مختلف مقامات پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں