اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی ماؤں اور بہنوں کا دھرنا بالآخر 73 روز بعد ختم ہوگیا۔
یہ خواتین لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے کے ساتھ ڈٹی رہیں لیکن ریاستی اداروں نے ان کی فریاد کو شنوائی نہ دی۔ بالآخر وہ خالی ہاتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئیں۔
یہ دھرنا حالیہ برسوں کے طویل ترین احتجاجی سلسلوں میں سے ایک تھا، جس میں خواتین نے شدید سردی، پولیس کی ہراسانی اور بار بار گرفتاریوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔
ان کا بنیادی مطالبہ لاپتہ بلوچ افراد کی بحفاظت واپسی تھا جبکہ وہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خاتمے پر بھی زور دیتی رہیں۔
یہ احتجاج دسمبر 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب بلوچ نوجوان بلاچ مولا بخش کو تربت میں ایک سکیورٹی آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔
ان کی ہلاکت نے بلوچستان بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں غیرقانونی طور پر مارا گیا۔
اسی تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تربت سے اسلام آباد تک طویل مارچ کا آغاز کیا اور انصاف کے حصول اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں پیش رفت کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد پہنچنے کے بعد مظاہرین نے نیشنل پریس کلب کے باہر دھرنا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے ان کے مطالبات کی حمایت کی، لیکن ریاستی ادارے زیادہ تر خاموش رہے۔ پولیس کی جانب سے کئی بار خواتین کو منتشر کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں مگر وہ ڈٹی رہیں۔
بالآخر 73 دن گزرنے کے بعد یہ دھرنا ختم ہوگیا، جو مظاہرین کی ثابت قدمی اور ریاست کی بے حسی دونوں کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔